ایم بی بی ایس میں تلنگانہ میں ویب کونسلنگ کا اختتام

۔336 مسلم طلبہ کو اے زمرہ میں فری سیٹ ، 25 مسلم طلبہ کو داخلے سے محرومی
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ اسٹیٹ میں ایم بی بی ایس میں داخلے کے نیٹ کے چار مرحلے کی تکمیل ہوئی اور آخری مرحلے ماب اپ راونڈ کے بعد قطعی داخلے ہوئے اب کوئی اور موقع یا تاریخ نہیں رہے گی ۔ نیٹ کے آل انڈیا رینک پر داخلے دئیے گئے ۔ تلنگانہ میں اے زمرہ میں حکومت کی مقرر کردہ فیس پر 332 مسلم طلبہ کو داخلہ ملا ۔ اور بی زمرہ میں بھی مسلم طلبہ 263 کی تعداد میں داخلے حاصل کئے اس طرح 600 مسلم طلبہ نے تلنگانہ ریاست میں اس سال ایم بی بی ایس میں دو / تین زمرہ جات میں داخلے حاصل کئے ۔ اے زمرہ کے فری سیٹ میں گورنمنٹ میڈیکل کالجس عثمانیہ میڈیکل کالج ، نان میناریٹی کالجس میں 117 مسلم طلبہ نے داخلہ پایا ۔ اور تین مسلم میناریٹی کالجس میں 215 طلبہ کو داخلہ دیا گیا جس میں دکن میڈیکل کالج میں 79 اور آخری رینک 39555 رہا ۔ شاداں میڈیکل کالج میں لڑکیوں کو 54613 رینک پر داخلہ ملا ۔ ڈاکٹر وی آر کے ویمن میڈیکل کالج میں 53 لڑکیوں کو داخلہ دیا گیا اور 418 نشانات لاکر 67128 رینک پر داخلے مکمل ہوئے ۔ اس طرح اے زمرہ میں 215 طلبہ کو میناریٹی کالجس میں اور 117 طلبہ کو گورنمنٹ اور پرائیوٹ نان میناریٹی کالجس میں داخلہ ملا ۔ ادارہ سیاست کے اشتراک سے مسلم میناریٹی میڈیکل کالجس میں اے زمرہ کے لیے 60 فیصد نشستوں جو 90 ، 90 اور 60 کے تناسب سے تین کالجس میں دینا تھا 25 نشستیں کم دی گئی ۔ جب کہ معزز ہائی کورٹ حیدرآباد تلنگانہ کے احکامات صادر کرتے ہوئے ان میڈیکل کالجس میں 60 فیصد کے تناسب سے داخلہ دینے اور 10 فیصد موجودہ الاٹ کرنے کو کہا اس پر دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ میں کچھ اور تیسرے مرحلہ کی کونسلنگ میں کچھ عمل کرتے ہوئے 40 کے منجملہ صرف 11 نشستیں دی گئی 4 نشستیں خصوصی تحفظات میں دی گئی یہ ویب کونسلنگ کے ین آر یونیورسٹی آف ہیلت سائنس کے تحت چار مرحلوں میں ہوئی اور ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل پورا نہیں ہوا ۔ چنانچہ 25 ذہین اور داخلہ کے لیے پورے مستحق طلبہ اپنے حق اور انصاف کے لیے چیف ججس آف انڈیا یم سی آئی ، یو جی سی ، مرکزی وزارت صحت وزارت فروع وسائل انسانی اور تلنگانہ چیف منسٹر سے تحریری طور پر پر زور نمائندگی کی جو مستقبل میں کے این آر یونیورسٹی آف ہیلت سائنس اور مجوزہ میڈیکل کالجس کی کونسلنگ کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان ہوگا ۔ اب 31 اگست سپریم کورٹ نے قطعی آخری تاریخ دی ہے ۔۔