بڑے پیمانے پر کراس ووٹنگ کی گنجائش‘ کانگریس جوکھم قبول کرنے تیار نہیں
حیدرآباد22 مئی (سیاست نیوز)ٹی آر ایس کی جانب سے ایم ایل سی انتخابات کیلئے پانچویں امیدوار کو انتخابی میدان میں اتارنے کے بعد کانگریس پارٹی بھی اپنی خصوصی حکمت عملی تیار کررہی ہے ۔ کانگریس سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے 4 ارکان اسمبلی کو ووٹ نہ دینے کا وہپ جاری کرنے کے علاوہ باقی 18 ارکان اسمبلی کیلئے صرف ایک ہی ووٹ دینے کی ہدایت دینے کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ تلنگانہ میں ایم ایل اے کوٹہ سے کونسل کی 6 نشستوں کیلئے انتخابات منعقد ہورہے ہیں حکمران ٹی آر ایس کی جانب سے 5 امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارنے کے بعد یکم جون کو رائے دہی کا تعین ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر کراس ووٹنگ کی گنجائش فراہم ہوگئی ہے ۔ کانگریس پارٹی نے ایک نشست کیلئے مسز اے للیتا کو امیدوار بنایا ہے ۔ اسمبلی میں کانگریس پارٹی کے 18 ارکان اسمبلی کی عدد ی طاقت ہے اور کامیابی یقینی ہے ۔ لیکن کانگریس پارٹی کسی بھیق سم کا جوکھم قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ تلنگانہ لیجسلیچر پارٹی کا 26 مئی کو خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں رائے دہی کے تعلق سے کانگریس کے ارکان اسمبلی کو کانگریس پارٹی اپنی حکمت عملی سے واقف کرائے گی کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے 4 ارکان اسمبلی وٹھل ریڈی ‘ریڈیا نائک ‘کے یادیا اور کے کنکیا کیلئے خصوصی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ عام طور پر وہپ پارٹی امیدوار کو ووٹ دینے کیلئے جاری کیا جاتا ہے تاہم اس مرتبہ روایت سے ہٹ کر ان 14 ارکان اسمبلی کیلئے کسی کو بھی ووٹ نہ دینے کا وہپ جاری کرنے پر غور کیا جارہا ہے تا کہ ان ارکان اسمبلی کی جانب سے ٹی آر ایس امیدوار کے حق میں ووٹ استعمال کرنے پر پارٹی فیصلہ کی خلاف ورزی کے الزام میں ان کی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کیلئے اسپیکر اسمبلی سے نمائندگی کی جاسکے اس کے علاوہ کانگریس کے تمام 18 ارکان اسمبلی کو صرف پہلا ترجیحی ووٹ دینے دوسرا ووٹ نہ دینے کی ہدایت جاری کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے اس کے علاوہ اسمبلی حلقہ نلگنڈہ کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے رکن اسمبلی مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کو بھی ووٹ دینے کیلئے راضی کرانے کی ذمہ داری ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ملو بٹی وکرامارک کو سونپی گئی ۔ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی مسٹر سی رمیش کی دوہری شہریت پر قانونی رائے حاصل کی جارہی ہے اور ٹی آر ایس کے نامزد رکن اسمبلی کو بھی رائے دہی میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے اسمبلی کے رہنمایانہ خطوط کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔