ایم ایل سی محمد محمود علی اور ان کے افراد خاندان کے نام انتخابی فہرست سے حذف

الیکشن کمیشن سے شکایت ، محمد علی شبیر کی کے سی آر پر تنقید کے خلاف انتباہ ، ٹی آر ایس ایم ایل سی کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/6مارچ، ( سیاست نیوز) انتخابات میں سیاسی حریفوں کے نام انتخابی فہرست رائے دہندگان سے خارج کرنے کی شکایات تو عام ہیں لیکن حیدرآباد کے حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل محمد محمود علی اور ان کے ارکان خاندان کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیئے گئے۔ ملک پیٹ اسمبلی حلقہ کے اعظم پورہ ڈیویژن میں واقع پولنگ اسٹیشن نمبر 97 میں محمود علی اور ان کے افراد خاندان کے علاوہ تقریباً 640رائے دہندگان کے ناموں کو حذف کئے جانے کی شکایت کی گئی ہے۔اس سلسلہ میں محمود علی نے آج الیکشن کمیشن سے شکایت کی جہاں انہیں اس معاملہ کی جلد یکسوئی کا تیقن دیا گیا۔ تلنگانہ بھون میں آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود علی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ جن افراد کے نام حذف کئے گئے ان میں محمود علی کے فرزند کا نام بھی شامل ہے جو اس اسمبلی حلقہ کے انچارج اور متوقع ٹی آر ایس امیدوار ہیں۔ محمود علی نے کانگریس کے ایم ایل سی محمد علی شبیر کی جانب سے ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ پر کی گئی تنقیدوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ محمد علی شبیر اپنی تنقیدوں کے ذریعہ کانگریس اور ٹی آر ایس کے تعلقات کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے حصول کا سہرا کے سی آر کے سر ہے جنہوں نے گذشتہ 14برسوں تک مسلسل جدوجہد کی۔ اس کے برخلاف محمد علی شبیر بشمول تلنگانہ کے کانگریس قائدین اس وقت میدان میں آئے جب مرکزی حکومت نے تلنگانہ کی تشکیل کا فیصلہ کیا۔ یہ قائدین سیاسی مقصد براری کیلئے اچانک میدان میں کود پڑے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کو کانگریس پارٹی پر بھروسہ نہیں ہے

اور عوام نے کانگریس میں انضمام کی مخالفت کی ہے جس کے باعث پارٹی اجلاس میں انضمام کی مخالفت میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی۔محمود علی نے بتایا کہ مسلمان بھی ٹی آر ایس کے کانگریس میں انضمام کے خلاف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نئی ریاست میں ٹی آر ایس عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں اہم رول ادا کرے۔ انہوں نے اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے محمد علی شبیر کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے جاریہ سال اقلیتی بہبود کیلئے 1027کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا تھا لیکن 400کروڑ روپئے بھی خرچ نہیں کئے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں محمود علی نے کہا کہ انتخابی مفاہمت کے سلسلہ میں صدر کانگریس سونیا گاندھی اور ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ فیصلہ کے مجاز ہیں اس کے علاوہ کیشو راؤ کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کانگریس یا کسی اور جماعت سے انتخابی مفاہمت کے سلسلہ میں مذاکرات سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ آندھرائی جماعتیں ہیں اور تلنگانہ میں ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں مسلمانوں سے کئے گئے تمام وعدوں کی تکمیل کی جائے گی جن میں ڈپٹی چیف منسٹر اور 12فیصد تحفظات جیسے وعدے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی کے انتخابات میں اقلیتوں کو 12فیصد نشستیں مختص کرنے کیلئے پارٹی ہائی کمان سے نمائندگی کی جائے گی۔ انہوں نے کانگریس کے تلنگانہ قائدین سے مطالبہ کیا کہ وہ کے سی آر پر تنقیدوں کا سلسلہ بند کریں ورنہ ان قائدین کا گھیراؤ کیا جائے گا۔پریس کانفرنس میں صوفی سلطان قادری، شیخ منیر، عارف الدین اور دوسرے موجود تھے۔