نئی دہلی 22 اگست (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس (ایمس) کے ویجلنس آفیسر سنجیو چترویدی کو ان کے عہدہ سے ہٹائے جانے پر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی میں لفظی جھڑپ شروع ہوگئی جس نے مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن کو اس واقعہ کے تناظر میں مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا ۔ بی جے پی کا استدلال ہے کہ سنجیو چترویدی عہدہ کے اہل نہیں تھے اور انہیں قصداً نشانہ بناتے ہوئے برخاست نہیں کیا گیا ہے جبکہ عام آدمی پارٹی کا کہنا ہے کہ دیانتدار افسران کو فرائض کی انجام دہی سے روکا جارہا ہے ۔ دوسری طرف وزیر صحت ہرش وردھن نے چترویدی کے تبادلہ کو منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ویجلنس آفیسر کے عہدہ کیلئے موزوں نہیں ہیں ۔ ہرش وردھن نے کہا کہ ہمیں یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ سنٹرل ویجلنس کمیشن کی منظوری کے بغیر چیف ویجلنس آفیسر کا عہدہ کسی کو بھی تفویض نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا جب یہ بات ہمارے علم میں لائی گئی تو ہم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چترویدی کا تبادلہ کردیا ۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ چترویدی 2002 ء بیاچ کے انڈین فاریسٹ سرویس آفیسر ہیں جو اپنی آبائی ریاست ہریانہ میں ایک قابل افسر تصور کئے جاتے ہیں لیکن گذشتہ ہفتہ وزارت صحت نے بغیر کوئی ٹھوس وجہ بتائے انہیں چیف ویجلنس آفیسر (CVO) کے عہدہ سے برخاست کرتے ہوئے ان کا تبادلہ کردیا جس پر عام آدمی پارٹی نے ہرش وردھن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ دیانتدار افسران کا عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے جبکہ چترویدی کے عہدہ کی میعاد جون 2016 میںاختتام پذیر ہونے والی تھی لیکن انہیں گذشتہ ہفتہ اچانک برطرف کردیا گیا ۔ ’’آپ‘‘لیڈر منیش سسودیا نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی بد عنوانیوں کے خاتمہ کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف دیانتدار افسران کو برطرف کرتے ہوئے ان کا تبادلہ دیگر محکمہ جات میںکیا جارہا ہے ۔