طلباء اوروالدین کا ہجوم ،کونسلنگ طریقہ کار سے آگہی ،پروفیسر فضل الرحمن اور سید اسماعیل کا خطاب
حیدرآباد 15 جون (سیاست نیوز) ایمسیٹ کے رینک کے ذریعہ کونسلنگ مختلف پروفیشنل کورسز میں داخلے ہوتے ہیں۔ طلباء اور سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ داخلے صرف کونسلنگ کے ذریعہ حاصل کریں کونسلنگ کیا ہوتی ہے داخلہ کا طریقہ کار کیا ہے ۔ کورسز اور کالجس کے متعلق معلومات فراہم کرنے ادارہ سیاست کے زیر اہتمام دفتر سیاست کے محبوب حسین جگر ہال عابڈس پر ایمسیٹ کونسلنگ سیشن کا انعقاد عمل میں آیا جو ایمسٹ میڈیسن اور ایمسیٹ (انجینئرنگ) کیلئے الگ الگ رکھا گیا ۔ مسٹر ایم اے حمید کیئریر کونسلر نے کونسلنگ کے طریقہ کار کو تفصیلی طور پر بتایا اور کہا کہ اس کی اطلاع کسی بھی طالب علم کو نہیں دی جاتی صرف اخباری اعلامیہ کے مطابق شریک ہونا ہوتا ہے ۔ کنوینر کی کونسلنگ ہوتی ہے ۔ ایم بی بی ایس / بی ڈی ایس کیلئے یونیورسٹی آف ہیلت سائنس کی کونسلنگ ہوتی ہے وٹرنری اور اگریکلچر کورسیز کیلئے آچاریہ اگریکلچر یونیورسٹی کی کونسلنگ ہوتی ہے۔ فارمیسی میں بی فارمیسی، فارما ڈی ہے اور ہو میو پیتھی، آیورویدک ہومیو پیتھی اور بائیو میڈیکل بائیو ٹکنالوجی کورسز ہیں ۔ ویب کونسلنگ کے علاوہ مائناریٹی کالجس کی علحدہ کونسلنگ ہوتی ہے ۔
وٹرنری سائنس کی اہمیت اور روزگار سے مربوط اس کورس کے متعلق پروفیسر سید اسمعیل سابق ڈین وٹرنری یونیورسٹی نے اپنے لکچر میں انٹر میڈیٹ بی پی سی اور ایم ی سی امیدواروں کو مشورہ دیا کہ وہ صرف ایم پی بی ایس، بی ڈی ایس کے بجائے وٹرنری سائنس ایم ایس سی میں داخلے حاصل کریں جس کے ذریعہ شاندار کیریئر ہے ۔ کئی طلبہ ایم بی بی ایس کے بجائے وٹرنری میں داخلہ حاصل کریت ہیں ۔ 2 ہزار ایمسیٹ رینک کے طالب علم کو بہ آسانی ایم بی بی ایس میں داخلہ ملتا تھا وہ بی وی ایس سی میں داخلہ حاصل کیا۔اس کے علاوہ اگریکلچر، ہرٹیکلچر ،فشریز، پولٹری صنعت میں کافی مواقع ہیں اور ان دنوں کافی مانگ ہے ڈاکٹر عبدالرحمن صدر سوسائٹی فار پروموشن آف اگریکلچر نے مسلم طلبہ کی اگریکلچر یونیورسٹی میںعدم دلچسپی کے حوالہ سے بتایا کہ انہیں ان کورسز کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے رہنمائی ضروری ہے اور پری کونسلنگ سیشن اور گائیڈنس پروگرام نہایت مفید اور کارآمد ہیں۔ اب طلبہ بی ایس سی اور بی وی ایس سی کی طرف راغب ہورہے ہیں ۔ ڈاکٹر قدرت اللہ نے وٹرنری سائنس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعہ راست روزگار ہے اور کورس کی تکمیل سے قبل ہی ملازمت کی پیشکش ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمن وائس پرنسپل گلوبل کالج آف فارمیسی نے فارمیسی کے متعلق ایمسیٹ کامیاب امیدواروں کو بتایا کہ اس وقت ریاست میں فارمیسی کے پانچ قسم کے کورسز ہیں اور یہ خام خیال ہے کہ فارمیسی کے بعد صرف میڈیکل اسٹور قائم کرسکتے ہیں جبکہ فارمیسی کے لئے کئی ملازمتیں ہیں ۔ فارمیسی کیلئے ڈپلوما دو سالہ کورس ،چار سالہ بی فارمیسی ،چھ سالہڈاکٹر ان فارمیسی ماسٹر سطح کے کورسیز ہیں جن کیلئے انٹر میڈیٹ ایم پی سی اور بی پی سی دونوں اہل ہیں ۔ ڈاکٹر معز عابد سعودی عربیہ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنی تقریر میں کہا کہ ڈاکٹر کا ایک معزز پیشہ ہے جو خدمت خلق سے سرشار ہے ۔
انہوں نے ہندوستانی ڈاکٹرز کی بیرون مملک میں قدر و منزلت کے حوالہ سے کہا کہ ہم اپنی صلاحیت کو یہیں پر منوا سکتے ہیں۔ نرسنگ شعبہ کے متعلق کہا کہ ایک مسلم نرس کیا مریض کو دم جاتے وقت کلمہ پڑھا سکتی ہے جو کارخیر ہے ۔ ایمسیٹ کے طلبہ میڈیکل کے علاوہ پیرا میڈیکل شعبہ میں بھی آئیں۔ جناب نعیم اللہ شریف نے کہا کہ ایسے پروگرام کا بروقت انعقاد سے بیرونی طلباء اور سرپرستوں کی مدد ہوتی ہے بلکہ انہیں طمانیت حاصل ہوتی ہے ۔جناب احمد بشیر الدین فاروقی ریٹائرڈ ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر نے جو پروگرام کوآرڈینیٹر تھے کہا کہ آج طالب علم کو اچھے ڈاکٹر یا انجینئر سے زیادہ اچھے مسلمان بننے کی ضرورت ہے انہوں نے کونسلنگ سے متعلق معلومات کو طلبہ اورسرپرستوں کی مددکی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف اپنی پسند کے مطابق داخلہ ملتا ہے بلکہ فیس کی پابجائی اور دیگر مراعات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ محمد خواجہ علی (شعیب) نے الیکٹریکل انجینئر اور محمد منور علی نے میکانیکل انجینئرنگ کے شعبہ پر تقاریر کی۔ حسان الدین انس نے انگریزی بول چال کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ منظور احمد نے معاونیت کی ۔ آخر میں ایم اے حمید نے شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر ایمسیٹ میڈیسن ( انجینئرنگ) کے سینکڑوں طلبہ نے شرکت کی جس کے سوالات کے جوابات دیئے گئے ۔