ایمرجنسی کا نفاذ ‘سدھارتھ شنکر رے کی غلط رہنمائی کا نتیجہ‘ پرنب مکرجی

نئی دہلی۔/11ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) 1975میں ایمرجنسی کے بدترین دور کو ٹالا جاسکتا تھا اور اسوقت کانگریس اور اندرا گاندھی کی غلط ’ مہم جوئی ‘کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی جبکہ بنیادی حقوق، سیاسی سرگرمیوں کی معطلی اور بڑے پیمانے پر مخالفین کی گرفتاریاں اور صحافت پر پابندیوں سے عوام بدظن ہوگئے تھے۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایمرجنسی ایام میں اندرا گاندھی کے ماتحت جونیر وزیر کی حیثیت سے مکرجی نے آنجہانی جئے پرکاش نارائن کی زیر قیادت اپوزیشن پر نکتہ چینی کی اور ان کی تحریک کو بے سمت قرار دیا۔ صدر جمہوریہ نے اپنی خود نوشت سوانح بعنوان’ ڈرامائی عشرہ۔ اندرا گاندھی کے دور اقتدار میں مابعد آزادی ہندوستانی تاریخ کے سیاسی تغیرات ‘ پر اپنے افکار کو قلمبند کیا ہے یہ تصنیف حال میں منظر عام پر آئی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اندرا گاندھی دستور کی دفعات سے واقف نہیں تھیں جس کی رو سے 1975 میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا، اور اس فیصلہ کیلئے سدھارن شنکر رے کی غلط رہنمائی ذمہ دار ہے۔ اگرچیکہ اسوقت کے چیف منسٹر مغربی بنگال سدھارتھ شنکر رے ایمرجنسی کے کرتا دھرتا بن گئے تھے لیکن شاہ کمیشن کے روبرو ہنگامی حالات کے دوران ظلم و زیادتیوں کیلئے خود کو بری قرار دیا تھا۔ مذکورہ تصنیف میں بتایا کہ ایمرجنسی کے وقت مرکزی کابینہ میں ہم جیسے کئی جونیر وزراء ہنگامی حالات کے دوررس نتائج کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ صدر جمہوریہ نے 321صفحات پر مشتمل تصنیف میں مختلف ابواب بشمول بنگلہ دیش کی آزادی، جئے پرکاش نارائن کی جارحانہ تحریک، 1977کے انتخابات میں شکست، کانگریس میں پھوٹ اور 1980ء میں اقتدار پر واپسی کا احاطہ کیا گیا ہے۔