ایل راجگوپال اور سامبا شیوا راؤ پر تقسیم ریاست کی مخالفت کا الزام

تجارتی مفادات عزیز تھے، مرکزی وزیر جے رام رمیش کا بیان
حیدرآباد /12 مارچ (سیاست نیوز) مرکزی وزیر جے رام رمیش نے کہا کہ لگڑا پاٹی راجگوپال اور رائے پاٹی سامبا شیوا راؤ نے اپنی تجارت کے لئے ریاست کی تقسیم کی مخالفت کی ہے۔ ضلع پرکاشم کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کی سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کے علاوہ وزراء اور دیگر قائدین نے تائید کی تھی، لہذا کانگریس پر یہ الزام غلط ہے کہ مذاکرات نہیں کئے گئے اور اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس قائدین سے کئی مرحلوں میں بات چیت کی گئی اور اپوزیشن جماعتوں کا کل جماعتی اجلاس طلب کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں جو نئی ریاستیں بنی ہیں، مرکزی حکومت نے کسی بھی ریاست کو پیکیج نہیں دیا،

تاہم کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت نے ریاست کی تقسیم کے بعد سیما۔ آندھرا کو جو پیکیج دیا ہے، اس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ کے لئے جس طرح حیدرآباد ہے، اسی طرح سیما۔ آندھرا کے لئے پولاورم پراجکٹ ہے، جس کی تعمیر کے لئے مرکزی حکومت 90 فیصد مصارف برداشت کرے گی، جب کہ خصوصی پیکیج سے سیما۔ آندھرا کو 50 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی۔ مسٹر جے رام رمیش نے چند قائدین کی جانب سے انھیں تلنگانہ کا ایجنٹ کہنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی علاقہ کے ایجنٹ نہیں، بلکہ تلگو عوام کے ایجنٹ ہیں۔ انھوں نے صرف ذاتی مفاد کے لئے نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کا کرن کمار ریڈی پر الزام عائد کیا اور کہا کہ قائدین کے مستعفی ہونے سے کانگریس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ کانگریس میں نوجوانوں اور دوسرے درجہ کے قائدین کو اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع دستیاب ہوگا۔ انھوں نے ماہ ستمبر میں سیما۔ آندھرا کی نئی راجدھانی کے لئے مقام کے انتخاب کا اعلان کیا، جس کے لئے گنٹور، وجے واڑہ، تروپتی اور دیگر مقامات زیر غور ہیں۔