واشنگٹن 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مسئلہ کشمیر کو جوں کا توں برقرار رکھنا حل نہیں ہے بلکہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کردیا جانا چاہئے تاکہ عوام اور اشیاء کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جاسکے۔ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے یہ تجویز پیش کی۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس مسئلہ کو جوں کا توں برقرار رکھنا ٹھیک نہیں اور یہ مسئلہ کا حل بھی نہیں ہے۔ اگر ہندوستان یہ موقف برقرار رکھے کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقوں کا تخلیہ کیا جانا چاہئے اور اُس وقت تک وہ مسئلہ کو جوں کا توں برقرار رکھے تو پھر اِس سے یکسوئی کی کوئی صورت نہیں نکلے گی۔ اگر ہندوستان 1947 ء علیحدگی کے نامکمل ایجنڈہ پر ہی قائم رہے تو یہ مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتا۔ کسی بھی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے راستے تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہم اِس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ دونوں ممالک کے مابین مزید علاقائی منتقلی نہیں کی جاسکتی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول کو تسلیم کرلیا جائے
اور اِسے بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کردیا جائے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی اسٹوڈنٹس گروپ انڈیا ڈائیلاگ کے زیراہتمام کشمیر کے موضوع پر منعقدہ پروگرام سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ تسلیم کیاکہ یہ حل دونوں ممالک کے لئے کافی مشکل ہوگا کیونکہ دونوں ممالک کے مفادات حاصلہ بھی اِس مسئلہ سے مربوط ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو برقرار رکھا جائے۔ عمر عبداللہ کا یہ موقف تھا کہ اِس مسئلہ کو حل کرنے کا سب سے قابل قبول حل یہی ہوسکتا ہے کہ لائن آف کنٹرول کو تسلیم کیا جائے۔ ہندوستان نے اِس کو درحقیقت تسلیم کرلیا ہے لیکن وہ ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے 1999 ء کارگل جنگ کی مثال دی۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر آپ لائن آف کنٹرول کو تسلیم نہ کریں تب یہ سرحد نہیں ہونی چاہئے۔ یہاں عوام کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جانی چاہئے۔ اِسی طرح اشیاء کی حمل و نقل بھی ہونی چاہئے لیکن ایسا بالکل نہیں ہورہا ہے۔