پولیس طاقت کا استعمال ، پروفیسر چکارامیا کے بشمول کئی قائدین کا اظہار یگانگت
حیدرآباد۔12مئی(سیاست نیوز) دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے تین طلبہ کو یونیورسٹی سے معطل کرنے کے خلاف ایفلو یونیورسٹی طلبہ نے آج چلو ایفلو مارچ کا اعلان کیا تھا جس میںطلبہ کی کثیرتعداد نے حصہ لیا۔ پولیس کی بھاری جمعیت کی موجودگی میں طلبہ نے یونیورسٹی میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے طلبہ کی جدوجہد کو ناکام بنادیا۔ سابق رکن قانون ساز کونسل چکارامیہ‘ صدر ٹی یو ایف شریمتی ویملا‘ نائب صدر واسٹیٹ کوآرڈینٹر ٹی پی ایف مسٹر ویدا کمار‘ صدر ٹی پی ایف گریٹر حیدرآباد جناب منیر الدین مجاہد‘ کانگریس قائد ڈاکٹر ونئے کمار‘ ترجمان تلنگانہ کانگریس کمیٹی کرشانک‘جنرل سکریٹری ٹی پی ایف این کرشنا‘ شریمتی دیویندرا ‘ پرفیسر سوریہ پلی سجاتا‘ صدر پی او ڈبلیو شریمتی سندھیاکے علاوہ دیگر تلنگانہ حامی قائدین نے ایفلو پہنچ کر طلبہ سے اظہار یگانگت کیا۔ یونیورسٹی کے باب الدخلہ پر تین روز سے جاری احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر چکارامیہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے رویہ کی سختی کے ساتھ مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ پی ایچ ڈی طلبہ کے ساتھ انتظامیہ کا رویہ قابلِ افسوس ہے انہوں نے کہاکہ بلاوجہہ طلبہ کو دوسال کے لئے معطل کرنا بچوں کی زندگی سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔مسٹر ویدا کمار نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ایفلو انتظامیہ کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی میںزیر تعلیم طلبہ کے لئے یونیورسٹی کی لائبریری اور ریڈنگ روم ، پڑھائی کے لئے بہترین مقام ہے مگر انتظامیہ کی جانب سے امتحانات سے قبل لائبریری اور ریڈنگ روم بند کردینے کا اقدام طلبہ کومشتعل کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ معطل طلبہ ستیش‘ موہن اور سبھاش کمار کا یونیورسٹی کے بہترین طلبہ میںشمار کیاجاتا ہے باوجود اسکے مذکورہ طلبہ کی چھوٹی غلطی کو بنیاد بناکر انہیں دوسال کے لیے معطل کرناقابلِ افسوس اقدام ہے جناب منیر الدین مجاہد نے وائس چانسلر سونینا سنگھ کو متعصب قراردیتے ہوئے کہاکہ کشمیری طالب علم مدثر کی خودکشی میںہوئی موت پر ایفلو کے معطل شدہ طلبہ ستیش ‘ موہن اور سبھاش کمار نے یونیورسٹی میں بڑا احتجاج منظم کیاتھا اور تب سے ہی ایفلو انتظامیہ بالخصوص وائس چانسلر سونینا سنگھ مذکورہ طلبہ کے خلاف کارروائی کا موقع تلاش کررہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ لائبریری کا شیشہ توڑنے کے الزام میںتینوں طلبہ کو دوسال کے لئے معطل کرنے کا وائس چانسلر کا اقدام دلت طبقے کے طلبہ سے عصبیت کا ثبوت ہے۔جناب منیر الدین مجاہد نے وائس چانسلر سے اپنے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور حکومت سے وائس چانسلر کے فوری تبادلے کا بھی پرزورمطالبہ کیا۔ اس دوران تلنگانہ حامی دانشوروں کے ایک وفد نے وائس چانسلر سے ملاقات کی کوشش کی تاکہ معطل شدہ طلبہ کی بحالی کے لئے نمائندگی کی جاسکے مگر گھنٹوں انتظار کے باوجود تلنگانہ حامی دانشوروں کی وائس چانسلر سے ملاقات نہیںہوئی۔