سئیول 19 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) یہ انتباہ دیتے ہوئے کہ ’’رقابتیں ‘‘ ایشیاء کو پسماندہ بنائے رکھیں گی‘ وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ علاقائی ممالک کو اجتماعی طور پر دہشت گردی جیسے چیلنجس سے نمٹنا چاہئے ‘ ایک کوشش کرنا چاہئے جس میں ہندوستان بھی اپنی ذمہ داری نبھائے گا ۔ مودی نے ایشیائی لیڈرس شپ فورم سے سیول میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایشیاء کو ایک طاقت کے طور پر ابھرنا ہے تو ایشیاء کو اپنے آپ کو علاقائی بنیادوں پر سونچنا ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایشاء میں رقابتیں اسے پسماندہ بنائے رکھیں گی۔ایشیاء کا اتحاد دنیا کی ساخت ہو گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اجتماعی مہم ہے جو تمام علاقائی ممالک کی ہے تا کہ دہشت گردی کے مشترکہ چیلنجوں کے خلاف جنگ کی جاسکے ۔ بین قومی جرائم ‘آفات سماوی اور امراض ان سب کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ ایشیاء کو دو چہرے نہیں رکھنا چاہئے ‘ایک اُمید اور خوشحالی کا‘ دوسرا طلب اور مایوسی کا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کوان ممالک کا بر اعظم نہیں بننا چاہئے جو ترقی پذیر ہیں اور چند ممالک انحطاط پذیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے چند علاقے مستحکم اور دیگر ٹوٹے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج مغربی ایشیاء کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے اس کا گہرا اثر مشرقی ایشیاء پر بھی مرتب ہوگا ۔ انہوں نے واضح طور پر مستقل تصادم کے علاقے اور براعظم کے مختلف علاقوں کی ایک دوسرے کے ساتھ صف آرائی کا حوالہ دیا۔ یہ اُن کے تین قومی دورہ کا آخری مرحلہ ہے ۔ انہوں نے قبل ازیں چین اور منگولیہ کے دورے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندروں کا ایشیاء کے بلند علاقوں پر کیا اثر مرتب ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ممکن چیز استعمال کرتے ہوئے پائیدار امن اور استحکام ایشیاء میںقائم کریں۔ انہوں نے کوریا کی ستائش کرتے ہوئے اسے ’’جمہوریت کا ایک ستون ‘‘قرار دیااور کہا کہ کوریا کے معاشی کرشمے اور ٹکنالوجی میں عالمی قیادت نے اس ایشیائی ملک کو زیادہ حقیقت پسند بنادیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہندوستان کی باری ہے کہ ایشیاء کی کامیابی برقرار رکھے ۔ ہندوستان کی صلاحتیں کبھی بھی مشکوک نہیں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کے دوران ہم نے اپنے خواب کو حقیقت بنادیا ۔ اعتماد کے ساتھ امید پیدا کی ۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی شرح ترقی دوبارہ 7.5 فیصد سالانہ اور مزید ترقی اور استحکام کے امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا متحدہ طور پر کہتی ہے کہ ہندوستان نیا درخشاں مقام ہے جو اس علاقہ میں اور دنیا بھر میں امید کا مرکز ہے ۔ عالم انسانیت کے چھٹویں حصہ کی ترقی یقیناً پوری دنیا کیلئے ایک موقع ثابت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں یہ بھی صلاحیت ہے کہ دنیا کیلئے مزید بہت کچھ کرے۔ حاضرین میں کئی ایشیائی قائدین موجود تھے ۔ مودی نے کہا کہ ایشیاء زیادہ کامیابی حاصل کرے گا بشرطیکہ تمام ممالک میں اتحاد پیدا ہو۔یہ مختلف قسم کے ممالک کا براعظم نہ ہو بلکہ تمام ممالک متحد رہیں۔