ایس ایس سی نصاب کی تبدیلی اور پرچوں کی جانچ کے نئے طریقوں کے منفی اثرات

حیدرآباد۔/11جون، ( سیاست نیوز) ایس ایس سی نصاب میں تبدیلی کے اثرات جہاں طلبہ پر مثبت ثابت ہوں گے وہیں طلبہ پر تلگو زبان کا بوجھ عائد ہوگا۔ نصاب میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ پرچوں کی جانچ کے طریقہ کار اور سالانہ امتحانات کے نشانات کے حصول کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی لائی گئی ہے۔ اس تبدیلی کے اعتبار سے ایس ایس سی طلبہ کو تلگو میں بھی دیگر زبانوں کی طرح کم از کم 35فیصد نشانات کامیابی کیلئے حاصل کرنے ہوں گے۔ تلگو میں طلبہ کو سابق میں رعایت حاصل تھی لیکن اب یہ رعایت ختم ہوچکی ہے جس سے طلبہ کا بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔SCERT کی جانب سے تیار کردہ نئے تعلیمی نصاب کے اعتبار سے طلبہ کو نہ صرف سال بھر پڑھائی پر توجہ دینی ہوگی بلکہ اپنی صلاحیتوں کا بھی اظہار کرنا ہوگا۔ مگر تلگو کے معاملہ میں طلبہ کا یہ احساس ہے کہ تلگو زبان کے سبب انہیں ہونے والی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا محسوس کرتے ہیں کہ اگر تلگو کے امتحان میں رعایتی نشانات نہیں دیئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں طلبہ کی بڑی تعداد بالخصوص اقلیتی طلبہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اولیائے طلبہ کا ماننا ہے کہ جب ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے اردو کو جائز مقام دیئے جانے کے اعلانات کئے جارہے ہیں تو ایسی صورت میں طلبہ کو تلگو لازمی قرار دیتے ہوئے 35فیصد تک نشانات حاصل کرنے کیلئے مجبور کیا جانا درست نہیں ہے۔

اساتذہ کا ماننا ہے کہ طلبہ بالخصوص اقلیتی طلبہ کی جانب سے تلگو زبان سیکھنے میں عدم دلچسپی کے سبب یہ طلبہ نتائج کے موقع پر مایوسی کا سامنا کرسکتے ہیں۔ سرکاری اساتذہ کے بموجب جب تعلیمی نصاب کو قطعیت دی جارہی تھی اس وقت بھی اعلیٰ عہدہ داروں کو اس مسئلہ سے واقف کرواتے ہوئے یہ واضح کردیا گیا تھا کہ تلگو زبان میں دیگر زبانوں کی طرح مساوی نشانات کے حصول کی پابندی کی صورت میں نتائج میں بہتری آنے کے بجائے نتائج خراب برآمد ہوسکتے ہیں۔ محکمہ تعلیم سے وابستہ عہدیداروں کا ادعاء ہے کہ تلگو زبان میں مہارت حاصل کرنے کی صورت میں طلبہ کے مستقبل کو بہتر بنایا جاسکتا ہے لیکن طلبہ و اولیائے طلبہ کا یہ کہنا ہے کہ تلگوزبان کے پرچہ کیلئے 35فیصد نشانات کے حصول کی پابندی طلبہ پر بوجھ عائد کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت آندھرا پردیش نے اسکولی تعلیم کی فیس کے معاملہ پر تاحال کوئی توجہ نہیں دی ہے اور اب جبکہ ریاست تقسیم ہوچکی ہے اور حکومت تلنگانہ کی جانب سے بھی ایسی کوئی پیشکش نظر نہیں آرہی ہے۔ طلبہ و اولیائے طلبہ کا ماننا ہے کہ پرانے شہر کے بیشتر سرکاری اسکولوں میں تلگو کے اساتذہ متعین ہی نہیں ہیں ایسی صورت میں طلبہ کو نشانات کے حصول کیلئے دباؤ ڈالنا ان میں بغاوت کے تیور پیدا کرنے کے مترادف ثابت ہوسکتا ہے۔ حکومت آندھرا پردیش کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ جی او ایم ایس نمبر 17میں اس بات کی واضح صراحت بھی موجود ہے۔ اولیائے طلبہ و طلبہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اگر 35فیصد نشانات کیلئے درکار ماہر اساتذہ فراہم نہیں کئے جاتے تو ایسی صورت میں نتائج مزید توقع کے برخلاف ثابت ہوں گے۔