تہران 10 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران کے ایک اعلی عہدیدار نے آج کہا کہ ان کا ملک نیوکلئیر پروگرام کے سلسلہ میں یورانیم کی افزودگی کے کسی کمزور پروگرام کو قبول نہیں کریگا جو عالمی طاقتیں اس کیلئے پیش کرنا چاہتی ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ یہ در اصل مغربی طاقتوں کا ایک ’’ کھلونا ‘‘ ہے جسے ایران قبول نہیں کریگا ۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے امریکی و یوروپی امور ماجد تخت روانچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی یورانیم افزودگی کی سرگرمیاں ہی اران کے نیوکلئیر پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ بات چیت کے عمل میں رکاوٹ قرار دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے جنیوا سے تہران واپس ہونے کے بعد یہ ریمارک کئے اور کہا کہ عالمی طاقتیں ایک کھلونے کے طور پر ایران کو کمزور یورانیم افزودگی پروگرام پیش کرنا چاہتی ہیں جسے ان کا ملک قبول نہیں کریگا ۔ جنیوا میں انہو نے امریکی عہدیداروں کے ساتھ پانچ گھنٹوں تک بات چیت میں حصہ لیا تھا ۔ انہوں نے گذشتہ ہفتے ہوئی بات چیت کے تعلق سے کہا کہ ہم نے فریق مخالف کو کہہ دیا ہے کہ ہم یورانیم افزودگی کے کسی ایسے پروگرام کو قبول نہیں کرینگے جو کھلونے کے مترادف ہو ۔ ہمارا افزودگی پروگرام ایک مخصوص دائرہ کار ہے اور ہم اس دائرہ کار کے باہر کسی بھی چیز کو قبول نہیں کرسکتے ۔ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین 20 جون کی جو مہلت نیوکلئیر پروگرام پر کسی معاہدہ کیلئے مقرر کی گئی تھی اس کی پابندی نہیں کی جاسکی ہے اور اب یہ مہلت 24 نومبر تک بڑھا دی گئی ہے ۔ ان فریقین کے مابین آئندہ دور کی بات چیت اقوا ممتحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل ہوگی ۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس 16 ستمبر سے ہونے والا ہے ۔