ویانا 19 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایران اور 6 عالمی طاقتوں کے درمیان نیوکلیر مذاکرات میں شامل سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ دو دن کے مذاکرات 20 جولائی کی قطعی آخری مہلت تک معاہدہ کے راستے میں حائل اختلافات کم کرنے سے قاصر رہے۔ سفارت کاروں نے تیسرے روز کے مجوزہ اجلاسوں سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اِس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ بات چیت قبل ازوقت ملتوی کردی جائے گی کیونکہ کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔ یورانیم کی افزودگی کے مراکز پر اہم تنازعہ پایا جاتا ہے جہاں ایسی یورانیم تیار کی جاتی ہے جسے ری ایکٹر کے ایندھن اور وار ہیڈ کے مرکزی حصے میں فشاری مادے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ نیوکلیر ہتھیار کا خواہشمند نہیں ہے۔ وہ یورانیم کی افزودگی ایٹمی برقی توانائی حاصل کرنے کے لئے جاری رکھنا چاہتا ہے۔ گزشتہ ماہ بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی تھی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دو سفارت کاروں نے کہاکہ موجودہ بات چیت میں بھی تعطل پیدا ہوگیا ہے۔ تہران سے موصولہ اطلاع کے بموجب ایران اور 6 عالمی طاقتوں نے ایک جامع نیوکلیر معاہدہ کا مسودہ تیار کرنا شروع کردیا ہے۔
لیکن اِس کے باوجود کئی نکات پر اختلافات کا سامنا ہے۔ وزیر خارجہ ایران محمد جواد زریف نے کہاکہ آج ہم نے سست رفتار کے ساتھ قطعی معاہدہ کا مسودہ تیار کرنا شروع کردیا ہے لیکن متن پر ہنوز اختلافات برقرار ہیں۔ خبررساں ادارہ اثنا نے جواد زریف کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران نے معاہدہ طے کرلیا ہے۔ خبررساں ادارہ ارنا کی خبر کے بموجب بنیادی اختلافات جاری ہیں جس کی وجہ سے ایران اور 6 عالمی طاقتوں برطانیہ، چین، فرانس، روس اور
امریکہ کے علاوہ جرمنی کے ساتھ قطعی معاہدہ ہنوز نہیں ہوسکا۔ تاہم جواد زریف نے کہاکہ دونوں فریقین متن کے عنوان پر متفق ہوچکے ہیں۔ معاہدہ کا عنوان ’’عام جامع لائحہ عمل‘‘ رکھا جائے گا۔ ایرانی سفارت کاروں اور 6 عالمی طاقتوں کے سفارت کاروں کے درمیان کل سے مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم مذاکرات سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ توقع ہے کہ بات چیت کل بھی جاری رہے گی جس کا مقصد 20 جولائی کی قطعی آخری مہلت سے قبل جامع معاہدہ کو قطعیت دے دی جائے گی۔ ایران کے اعلیٰ سطحی ثالث عباس ارقچی قبل ازیں خبررساں ادارہ ارنا سے کہہ چکے ہیں کہ ایران کو اُمید ہے کہ مقررہ تاریخ تک 6 عالمی طاقتوں کے ساتھ اختلافات کی یکسوئی ہوجائے گی۔ سب سے زیادہ تنازعہ امریکہ اور یوروپی یونین کی تحدیدات کی برخاستگی کے نظام الاوقات کے بارے میں ہے۔