ایران کے ساتھ جنگ نہیں:سعودی عرب

ریاض ۔ /12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عربیہ نے یمن میں حوثی باغیوں کی سرپرستی روک دینے کیلئے ایران پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو مجرمانہ سرگرمیوں کی پشت پناہی نہیں کرنی چاہئیے ۔ وزیر خارجہ سعودی عرب سعود الفیصل نے واضح طور پر کہا کہ یمن میں سعودی عرب ایران کے ساتھ جنگ نہیں کررہا ہے ۔ ریاض ایران کے ساتھ جنگ کے محاذ پر نہیں ہے ۔ جب تک ایران اس بات پر غور نہیں کرتا کہ وہ یمن میں جاری کارروائیوں کا اچانک فریق ہونا چاہتا ہے ۔ اس وقت تک ہم ایران کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے ۔

سعود الفیصل نے اپنے فرانس کے ہم منصب لاورنٹ فبیوس کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں یہ بات بتائی ۔ وزیر خارجہ فرانس اس وقت سعودی عرب کے دورہ پر ہیں ۔ سعود الفیصل نے تہران پر زور دیا کہ وہ یمن میں حوثی قبائیلیوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کی پشت پناہی نہ کریں اور یمن کے جائز حقوق کے تحفظ پر توجہ دیں ۔ ایران کو چاہئیے کہ وہ حوثی قبائیلیوں کو ہتھیار اور امداد فراہم کرنا روک دیں ۔ یہ دہشت گرد یمن میں اندھادھند کارروائیاں کررہی ہیں ۔ وزیر خارجہ فرانس نے ریاض میں شاہ سلمان اور سعودی عرب کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے بحران کو حل کرنے کیلئے فرانس تیار ہے ۔ فرانس نے یمن کے بحران کو حل کرنے کیلئے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔ سعودی عربیہ یمن میں /26 مارچ سے کئی عرب ممالک کے اتحادی فوج کی قیادت کررہا ہے جہاں حوثی قبائیلیوں کے خلاف فضائی بمباری جاری ہے ۔

حوثی قبائیلیوں نے ستمبر میں دارالحکومت صنعا پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیا تھا ۔ اس کے بعد ان باغیوں کی یمن کے دیگر حصوں پر قبضہ کرنے کی پیشرفت جاری ہے ۔ سعودی عرب کو یہ اندیشہ ہے کہ یہ باغی پورے ملک پر قبضہ کریں گے اور اس کے بعد ایران کی ایماء پر سعودی عرب کی سرزمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے ۔ سعود الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب نے یمن میں مداخلت اس لئے کی کیونکہ صدر یمن عبدالربو منصور ہادی نے درخواست کی تھی ۔ صدر یمن حوثی قبائیلیوں کے حملے کے بعد قصر صدارت چھوڑ کر سعودی عرب آئے تھے ۔ اسی دوران ایران نے یمن میں باغیوں کی مدد کرنے اور انہیں اسلحہ فراہم کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا ۔ ایران کے عظیم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے یمن میں اتحادی افواج کے حملوں کو مجرمانہ کارروائیاں قرار دیا۔