ایران کی فوج کو دفاعی تیاری کرنے کا مشورہ

تہران ۔ /19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے عظیم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسلح افواج پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی تیاریوں میں اضافہ کریں ۔ امریکہ نے نیوکلیر ہتھیاروں کا ہواّ کھڑاکرکے امکانی فوجی کارروائیوں کی دھمکی دی ہے ۔ خامنہ ای نے کمانڈرس اور سپاہیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم جنرل مارٹن ڈیمپسے چیرمین امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے احمقانہ ریمارکس کو ہرگز قبول نہیں کریں گے ۔ اگرچہ کہ انہوں نے ان کا نام نہیں لیا ۔ قبل ازیں جمعرات کے دن جنرل ڈیمپسے نے ایران کو S300 ایرڈیفنس میزائیلس سربراہ کرنے روس کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان میزائیل کے حصول سے تہران امریکہ کی فوجی کارروائیوں کو روکنے کا اہل نہیں ہوسکے گا ۔ تہران کے نیوکلیر تنصیبات پر اگر ضروری ہو تو امریکہ بمباری کرے گا ۔ ڈیمپسے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایران کو سربراہ کئے جانے والے اہم فوجی آلات سے متعلق ہمیں علم ہے ۔ ایران کو نیوکلیر ہتھیار کے حصول سے روکنے کیلئے امکانی فوجی کارروائیوں کے بارے میں امریکہ برسوں سے انکار کرتے آرہا ہے ۔ خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ ایران کے نیوکلیر ہتھیاروں کا ہواّ کھڑا کرتے ہوئے ان ہتھیاروں کو خطرناک ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ انہوں نے اس ہفتے نیوکلیر مذاکرات کے احیاء سے قبل اپنی تقریر میں کہا کہ ہم نیوکلیر مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں

لیکن امریکہ پر بھروسہ بھی نہیں کرسکتے ۔ یہ لوگ ہمارے نیوکلیر ہتھیاروں کا ہواّ کھڑا کررہے ہیں ۔ اس کے حوالے سے ایران کو فوجی کارروائیوں کی بھی دھمکی دی جارہی ہے ۔ خامنہ ای نے ٹیلی ویژن پر کئے گئے اپنے خطاب میں کہا کہ فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکیاں شرمناک ہیں ۔ جبکہ امریکہ برسوں سے اس طرح کی دھمکیاں دیتے آرہا ہے ۔ تاہم ہمیں دفاعی تیاری میں اضافہ کرنی ہوگی ۔ ایران اور امریکہ میں سیاسی قائدین نے نیوکلیر مذاکرات کے مثبت نتائج کا اشارہ دیا ہے۔ ایسے میں خامنہ ای کا یہ بیان سفارتی عمل کیلئے معاون نہیں ہوسکتا ۔ ایران اور دنیا کے 6 طاقتور ممالک ملکر نیوکلیر پروگرام کے تنازعے پر بات چیت کررہے ہیں اور اس سلسلے میں معاہدہ کو قطعیت دی جانے والی ہے ۔