واشنگٹن ۔ 10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے 2015ء کوعالمی طاقتوں سے طے پائے جوہری سمجھوتے کے بدلے میں حاصل کی گئی رقوم دہشت گردی کی پشت پناہی کے لئے استعمال کی تھیں۔’ڈاوس‘ میں ’سی بی سی‘ ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں جان کیری نے کہا کہ معاہدے کے بعد ایران پر عائد کردہ اقتصادی پابندیاں اٹھا دی گئیں اور تہران نے ایک ارب 50 کروڑ ڈالرحاصل کئے۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ دہشت گردی کی معاونت پرصرف کیا گیا۔ جوہری معاہدے کے بعد ایران کے قرضوں کا بوجھ 55 ارب ڈالر سے زائد تھا مگراس کے باوجود ایران نے حاصل کردہ رقم دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کے لئے صرف کی۔جان کیری کا کہنا تھا کہ پابندیاں اٹھنے کے بعد حاصل ہونے والی رقم ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کو دی گئی۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے دہشت گرد اداروں اور تنظیموں کواس رقم میں سے وافر حصہ دیا گیا۔ امریکہ کے پاس ایران کو ایسا کرنے سے روکنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔یاد رہے کہ جان کیری ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتا کرانے والوں میں پیش پیش رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرایا بلکہ اسے کامیاب بنانے اور بچانے کے لئے بھی بھرپورکوشش کی۔ یہاں تک کہ گذشتہ مئی میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جان کیری کے کرائے گئے معاہدے کوختم کیا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کیں۔امریکی عہدیداروں اور کانگریس کے ارکان کا کہنا ہے کہ ’ایران کا جوہری سمجھوتا‘ بدترین معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے ذریعہ ایرانی رجیم کی لڑکھڑاتی کشتی کو معاشی سہارا دیا گیا۔ سابقہ امریکی حکومت نے ایران کے ساتھ معاہدہ کرکے تہران کی خطے میں بڑھتی توسیع پسندانہ اور دہشت گردی کی حمایت کی سرگرمیوں کوبھی نظرانداز کیا۔جان کیری نے اپنی وزارت خارجہ کے دور میں ایرانی نژاد امریکیوں کو وائیٹ ہاؤس میں جگہ دی اورایرانی رجیم کی حامی لابی سے خود بھی متاثررہے۔ سابق صدر بارک اوباما کے دور میں وائیٹ ہاؤس میں ایرانیوں کی سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا۔