ویانا ؍ تہران 21 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے نیوکلیر ادارہ نے کہاکہ ایران 6 عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ عارضی معاہدہ کی شرائط کی پابندی کررہا ہے۔ اِس کی نیوکلیر سرگرمیاں روک دی گئی ہیں اور نیوکلیر مادہ جو کلیر ہتھیاروں کی تیاری میں قابل استعمال تھا، تلف کیا جاچکا ہے۔ یہ انکشافات اقوام متحدہ کی جانب سے کل کئے گئے۔ تہران سے موصولہ اطلاع کے بموجب ایران عراق میں جہادیوں کے خلاف بین الاقوامی کارروائی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ مغربی ممالک ایران پر عائد تحدیدات برخاست کردیں۔ وزیر خارجہ ایران محمد جواد زریف نے یہ تبصرہ کیا۔ اُن کے تبصرہ سے پہلے وزیر خارجہ فرانس لارینٹ فیبیوس نے کل ٹیلیفون پر اُن سے بات کی تھی اور کہا تھا کہ تمام علاقائی ممالک بشمول ایران کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں شامل ہوجانا چاہئے کیونکہ اُنھوں نے عراق اور پڑوسی ملک شام کے وسیع علاقہ پر قبضہ کرلیا ہے۔ سرکاری خبررساں ادارہ ارنا کے بموجب جواد زریف نے کہاکہ اگر ہم عراق کے سلسلہ میں کسی جنگ میں شمولیت سے اتفاق کریں تو دیگر ممالک کو بھی چاہئے کہ جوابی خیرسگالی کے طور پر ایران پر عائد تحدیدات برخاست کردیں۔