ایران نیوکلیئرپروگرام پُرامن ‘ امریکہ کا اعتراف

شرم الشیخ ( مصر) ۔15مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے امید ظاہر کی کہ بڑی عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ عنقریب ملک کے متنازعہ نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں معاہدہ کو قطعیت دے دی گی ۔ 6عالمی طاقتیں برطانیہ ‘ چین ‘ فرانس ‘ روس ‘ امریکہ اور جرمنی کا مقصد ہے کہ جاریہ ماہ کے اوآخر تک ایک معاہدہ کو قطعیت دے دی جائے اور اس کا خاکہ پیش کردیا جائے جس سے ایران نیوکلیئر بم بنانے سے باز آجائے ۔ فریقین کو اُمید ہے کہ یکم جولائی تک مکمل معاہدہ طئے پائے جائے گا ۔ وزیر خارجہ امریکہ نے سی بی ایس ٹی وی پر کل کہاکہ ہمیں بہت زیادہ یقین ہے کہ اپریل‘ مئی یا جون تک کوئی بھی چیز تبدیل نہیں ہوگی جس کی وجہ سے یہ سمجھا جاسکے کہ فیصلہ کا وقت صرف آج ہے اور فیصلہ ابھی ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ آئندہ دنوں میں معاہدہ ممکن ہے ۔ وہ مصر میں سوئٹزرلینڈ میں نئے دور کی بات چیت کے بارے میں ایک انٹرویو دے رہے تھے ۔ اس انٹرویو کے اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نٹ ورک سی بی ایس ٹی وی پر ’’ قوم کا سامنا ‘‘ پروگرام میں نشر کئے جائیں گے ۔ جان کیری نے تین روزہ بین الاقوامی سرمایہ کارکانفرنس کے دوران جو مصر کے تفریحی شہر شرم الشیخ میں منعقد کی جارہی ہے ‘ علحدہ طور پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیرتے ہوئے کہا کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام درحقیقت ’’پُرامن ہے ‘‘ جیسا ہے

ایران کا دعویٰ ہے اس لئے ہمیں اُس کو یہ پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دینی چاہیئے ۔ سودے بازی قطعی مرحلہ میں داخل ہوچکی ہے ۔ جان کیری وزیر خارجہ ایران محمد جواد ظریف سے لوسان ( سوئٹزرلینڈ) میں آج شرم الشیخ کانفرنس کے اختتام پر ملاقات کرنے والے ہیں ۔ سابق پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ امریکہ نے محتاط لب و لہجہ اختیار کیا تھا جب اُن سے ایک کامیاب معاہدہ طئے پانے کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ ایران مذاکرات کا مقصد صرف کامیاب معاہدہ کو قطعیت دینا نہیں ہے

بلکہ ایک درست معاہدہ طئے کرنا ہے ۔ ہم نے کچھ پیشرفت کی ہے لیکن کچھ جھول ابھی باقی ہے اور یہ جھول اہمیت بھی رکھتے ہیں ۔ معاہدہ کا مقصد اس بات کی طمانیت دینا ہے کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام پُرامن مقصد سے ہے اور ایرانی تنصیبات کی حفاظت کرنا ہے ۔ معاہدہ کی مدت اور بتدریج تحدیدات کی برخواست کی تاریخوں کاتعین کرنا ہے ۔ جن کی وجہ سے ایرانی معیشت برباد ہورہی ہے ۔ ایران کے اعلیٰ ترین قائد آیت اللہ علی خامنہ ای نے بات چیت پر تنقید کی ہے اور وہ عنقریب ایران کے سال نو کے موقع پر 21مارچ کو اپنی گہری نگرانی کے بارے میں ایک تقریر کرنے والے ہیں ۔ امریکہ اور یوروپی ممالک کو ایران کے نیوکلیئر معاہدہ کے بارے میں شکوک و شبہات تھے کہ وہ پُرامن نیوکلیئر معاہدہ کی آڑ میں نیوکلیئر ہتھیار تیار کررہا ہے لیکن ایران کا دعویٰ تھا کہ اُس کا پروگرام قطعی پُرامن ہے ۔