تہران 8 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران نے کہا کہ جاریہ ہفتے امریکہ کے ساتھ تہران کے نیوکلئیر پروگرام پر ہونے والی راست بات چیت ‘ مذاکرات کے اس سنگین مرحلہ میں خلا کو پر کرنے میں اہمیت کی حامل ہوگی اور اسی کے نتیجہ میں کوئی معاہدہ ہوسکتا ہے ۔ ایران کے ایک نائب وزیر خارجہ عباس ارقچی نے بات چیت میں ایرانی وفد کی قیادت کرینگے ۔ دونوں ملکوں کے مابین پیر اور منگل کو سرکاری سطح پر پہلی مرتبہ راست بات چیت ہونے والی ہے ۔ یہ بات چیت جنیوا میں ہوگی جس کے نتیجہ میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران تحدیدات کو برخواست کرنے پر زور دے گا ۔ عباس ارقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ راست بات چیت ضروری ہے ۔
اب مذاکرات انتہائی اہم مرحلہ میں داخل ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان برطانیہ ‘ چین ‘ فرانس ‘ روس اور امریکہ کے علاوہ جرمنی کا مسلسل اصرار ہے کہ ایران کے نیوکلئیر پروگرام پر کسی معاہدہ پر پہونچا جائے ۔ تاہم وینا میں مئی کے مہینے میں ہوئی تازہ ترین بات چیت میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے ۔ اس بات کی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان ممالک کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے ۔ امریکہ اور ایران کے مابین بات چیت کا کل جنیوا میں اعلان کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں سبھی گوشوں کو حیرت ہوئی تھی تاہم ایسا لگتا ہے کہ تہران اور امریکہ کے موقف میں جو فرق پایا جاتا ہے اس کو پاٹنے کیلئے یہ بات چیت ضروری ہوگئی ہے ۔ مسٹر ارقچی نے کہا کہ ہم مغربی ممالک کے گروپ میں امریکہ کے ساتھ بات کرتے رہے ہیں لیکن باہمی نوعیت کی بات چیت ضروری ہے کیونکہ اب یہ بات چیت اہم مرحلہ میں ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ سے علیحدہ مذاکرات ہوں۔