ایران اورP5+1 ممالک کے آئندہ مذاکرات 2 جولائی کو ویانا میں

ایران کا نیوکلیئر پروگرام اگر پُرامن ہے تو تعمیری معاہدہ متوقع : وینڈی شِرمن
واشنگٹن۔ 21 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایران اور P5+1 ممالک (امریکہ، چین، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی) کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ 2 جولائی کو ویانا میں منعقد کیا جائے گا۔ انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے سیاسی امور وینڈی شیرمن نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے پہلے مرحلہ کے اختتام پر بتایا کہ /2 جولائی کو ہم ایک بار پھر ویانا میں ہوں گے ۔ تاکہ بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھایا جاسکے ۔ انہیں توقع ہے کہ بات چیت اور ملاقات کے سلسلہ میں مزید اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم بات چیت کے انتہائی اہم مرحلہ میں داخل ہوچکے ہیں ۔

جاریہ ہفتہ ہم نے جو مذاکرات کیں وہ انتہائی پیچیدہ نوعیت کی تھیں لیکن ہم اس مذاکرات کو تعمیری قرار دے سکتے ہیں ۔ ہم نے ان تمام موضوعات اور مدعوں کو اپنی بات چیت میں شامل کیا جنہیں ہم نے ضرور ی سمجھا کہ وہ ہماری بات چیت کے ایجنڈہ میں شامل ہوں ۔ مذاکرات اب اس مرحلہ میں داخل ہونے والی ہے جہاں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران نیوکلیر توانائی کے حاصل ملک کی حیثیت سے نہ ابھرے اور اس کا پروگرام پرامن ہو تاہم ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا ایران اس بات کیلئے آمادہ ہوگا کہ وہ نیوکلیر توانائی کے حامل ملک کی حیثیت سے نہ ابھرے ؟ عالمی طاقتیں یہی چاہتی ہیں کہ ایران اپنا نیوکلیر پروگرام پرامن مقاصد کے لئے کرے ۔ ہم نے پہلے بھی یہ بات نوٹ کی ہے کہ ایرانی قائدین ہمیشہ سے ہی اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ ایران نیوکلیر اسلحہ سازی کرنا نہیں چاہتا اور نہ ہی کبھی ہم نے (قائدین) یہ ارادہ کیا کہ ایران کو نیوکلیر توانائی اور اسلحہ کی دوڑ میں جھونک دیا جائے ۔ وینڈلی شیرمن نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو ایران کے ساتھ ایک اچھے معاہدہ کی توقع کی جاسکتی ہے ۔