ایران۔مغرب روابط میں اضافہ ، عراق پر امریکہ ۔ ایران مذاکرات

واشنگٹن ؍ لندن۔ 17 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے عراق کی موجودہ صورتِ حال پر ایران کے عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کی۔ ویانا نے نیوکلیئر مذاکرات کے دوران علیحدہ طور پر امریکہ اور ایران کے عہدیداروں کا ایک علیحدہ اجلاس عراق کے موضوع پر منعقد کیا گیا۔ محکمہ خارجہ امریکہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ہم ایرانیوں کو بات چیت میں شامل کرنے کے سلسلے میں کھلا ذہن رکھتے ہیں جیسے کہ اس علاقہ کے دیگر ممالک کو مذاکرات میں شامل کرنے کے بارے میں رکھتے ہیں کیونکہ آئی ایس آئی ایل ، عراق میں ایک بڑا خطرہ بن کر ابھر رہی ہے۔ اس مسئلہ پر ایران کے ساتھ P5+1 مذاکرات کے دوران علیحدہ طور پر بات چیت منعقد کی گئی۔

عہدیدار نے کہا کہ یہ شمولیت فوجی تعاون یا دفاعی عزائم کے بارے میں نہیں ہے۔ اس کا عراق کے مستقبل میں امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے مستقبل کا فیصلہ عراقی عوام کریں گے۔ فی الحال ہم آئی ایس آئی ایل سے کئی علاقائی ممالک بشمول ایران کو لاحق خطرہ پر تبادلہ خیال کررہے ہیں اور عراق میںسب کی شمولیت کے ذریعہ فرقہ وارانہ ایجنڈے پر زور دیا جائے گا۔ قبل ازیں دن میں وائیٹ ہاؤز، محکمہ خارجہ اور محکمہ دفاع امریکہ نے عراق میں فوجی کارروائی کے بارے میں ایران کے ساتھ بات چیت کے امکانات کو مسترد کردیا تھا۔ وائیٹ ہاؤز کے نائب پریس سیکریٹری جوش ارنیسٹ نے کہا کہ وہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ P5+1 مذاکرات کے دوران علیحدہ طور پر ایران کے ساتھ فوجی تعاون کے سلسلے میں کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

شائع ہونے والی خبروں کے بموجب یہ واضح ہے کہ ایرانیوں کا احساس ہے کہ عراق میں ابتر ہوتی ہوئی صیانتی صورتِ حال کی وجہ سے ہر ایک کے مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں، اس لئے اس بحران کی جلد از جلد یکسوئی ضروری ہے۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام علاقائی ممالک کے مفاد میں یہی ہے کہ عراق میں انتہا پسندوں کا تشدد جلد از جلد اختتام پذیر ہوجائے۔ اس نے کہا کہ ہم یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ عراق کی سیاسی قیادت کے لئے ضروری ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کا سیاسی ایجنڈہ مقرر کرے۔ اس کے بعد ہی ایرانی قیادت اس موقف میں ہوگی کہ حقیقی مذاکرات ممکن ہوسکیں۔ دریں اثناء امریکہ نے یقین ظاہر کیا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں مقررہ قطعی آخری مہلت 20 جولائی سے قبل معاہدہ پر دستخط ہوجائیں گے۔ امریکہ کا وفد نائب وزیر خارجہ کی زیرقیادت ویانا مذاکرات میں شرکت کررہا ہے۔ لندن سے موصولہ اطلاع کے بموجب برطانیہ نے ایران میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دینے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی کی خبر کے بموجب مغربی ممالک، ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ پڑوسی ملک عراق میں انتہا پسندوں کا تشدد جلد از جلد ختم ہوسکے۔