اسلام آباد،8اکتوبر(سیاست ڈاٹ کام) توہین مذہب کے معاملہ میں دو سال کے بعدپاکستان کی عدالت عظمیٰ کے سربراہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کر رہا ہے ۔آسیہ بی بی کے خلاف جون 2009 میں توہین رسالت کے الزام میں درج مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے تھے اور اگلے برس 2010 میں انھیں اس مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔اکتوبر 2016 میں مجرمہ آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں آخری دفعہ سنی گئی تھی لیکن اس تین رکنی بنچ کے رکن جج اقبال حمید الرحمن نے کہا کہ ماضی میں وہ چونکہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل مقدمے کی سماعت کر چکے ہیں اور آسیہ بی بی کا مقدمہ بھی اسی سے منسلک ہے اس لیے وہ اس کی سماعت نہیں کر سکتے ۔اگلے سال ٹرائل کورٹ نے آسیہ بی بی کو سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف انھوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی۔ چار سال بعد اکتوبر 2014 میں عدالت نے سزا کی توثیق کی تھی لیکن آسیہ بی بی نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس میں موت کی سزا کو چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی قطعی اپیل پر اپنا فیصلہ آج محفوظ کردیا ہے۔