حیدرآباد 13 مئی (سیاست نیوز) عام انتخابات کا مرحلہ پورا ہوچکا اور سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ عوام کو 16 مئی کا بے چینی سے انتظار ہے۔ انتخابی نتائج کے بارے میں غیرمعمولی تجسس پایا جاتا ہے لیکن اگزٹ پولس نے عوامی رجحان کے بارے میں مختلف تبصروں اور رپورٹس کے ذریعہ عوام کے تجسس میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ ’’اگزٹ پول کبھی اگزاکٹ (حقیقی) پول نہیں ہوسکتے‘‘۔ میڈیا کے مختلف گوشوں میں الگ الگ نوعیت کے اگزٹ پولس جاری کئے جارہے ہیں اور اگر ماضی میں پیش کردہ اگزٹ پولس کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اکثر و بیشتر پیش قیاسیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ 2004 ء میں میڈیا نے اگزٹ پولس میں بی جے پی کو 270 نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی تھی لیکن اُسے حقیقت میں صرف 185 نشستوں پر کامیابی ملی۔ اِسی طرح کانگریس کو 176 نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی تھی لیکن اُس نے 217 پر کامیابی حاصل کی۔ اِسی طرح 2009 ء میں بی جے پی کو 189 نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا گیا لیکن اگزٹ پولس غلط ثابت ہوئے اور بی جے پی 159 تک محدود رہی۔ کانگریس کو 195 تا 201 نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی لیکن اُس کے برخلاف کانگریس نے 263 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔