نئی دہلی۔/10 اپریل، ( ایجنسیز ) اپوروا آنند سیاسی تجزیہ کار ہیں ، انہوں نے بی بی سی ہندی ڈاٹ کام کے لئے ایک تازہ تحریر لکھی ہے جس میں انہوں نے تلنگانہ اور آندھرا میں ہوئے مسلم نوجوانوں اور غریب مزدوروں کے قتل پر شدید تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی اہم سوالات کئے ہیں اور نام نہاد ’ مین اسٹریم ‘ میڈیا کی غیرت کو للکارتے ہوئے پوچھا ہے کہ ’’ مرنے والے غریب اور مسلمان نہ ہوتے تو ؟ ‘‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک دن میں 25 افرادہلاک ہوگئے۔ اگر یہ اموات کسی بھی دھماکے میں ہوئی ہوتی تو سارے ٹیلی ویژن چیانلوں کو بخار آگیا ہوتا، لیکن وہ تو ریاستی سرکار کی گولیوں سے ہوئی ہیں۔ ریاستی حکومت کی طرف سے مقرر پولیس کی گولیوں سے۔ آندھرا پردیش کی پولیس نے قبائیلی مزدور مارے اور تلنگانہ کی پولیس نے مسلمان مارے۔ لیکن ان کی موت پر کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ جب ان کے تعلق سے توجہ دلائی جاتی ہے تو ٹیلی ویژن اینکر کی ناک چڑھ جاتی ہے کہ وہ مارے گئے لوگوں کے مذہب کاذکر کیوں کررہے ہیں۔ جن کا قتل ہوا ہے ان کا مقدمہ تقریباً آخری مرحلے میں تھا اور ایک آدھ مہینے میں فیصلہ آجاتا۔ تب طئے ہوتا یا شاید تب بھی نہیں کہ وہ ’ دہشت گرد ‘ تھے یا نہیں۔ انہوں نے دہشت گردانہ حملے کئے تھے یا نہیں۔ کیا اس کا اندیشہ تھا کہ وہ بچ جائیں گے ، ویسے ہی جیسے بہت سارے مسلمان دس، پندرہ برس جیل میں گزارنے کے بعد بچ کر نکل گئے ہیں؟۔ کیا اس ’ موت ‘ کے پیچھے یہی ڈر تھا؟ ۔