متاثرہ اضلاع میں طوفان کی تباہ کاریوں کی منہ بولتی داستان‘بلند عمارتیں بھی طوفان کے اثر سے بچ نہ سکے
وشاکھاپٹنم۔12اکٹوبر (پی ٹی آئی) تیز آندھی‘ طوفانی ہوائیں ‘ جڑ سے اکھڑے ہوئے درخت اور برقی کھمبے ‘ شیڈس اور جھونپڑیوں کے اڑے ہوئے چھت‘ منقطع برقی کیبلس‘ ساحلی اضلاع میں آج آئے خطرناک طوفان ’’ہُد ہُد‘‘ کی تباہ کاریوں کی ہولناک داستان کررہے تھے ۔ وشاکھاپٹنم ‘ سریکاکلم اور وجیا نگرم میں عام زندگی بالکل مفلوج رہی اور 170تا 180کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی طوفانی ہواؤں نے ساحلی اضلاع میں قیامت خیز منظر بپا کردیا ۔ انتہائی شدید طوفان ’ہدہد‘ آج دوپہر سے قبل ہی وشاکھاپٹنم سے ٹکرا گیا ۔ طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش نے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا جس کے نتیجہ میں جگہ جگہ کئی گھنے درخت اور برقی کھمبے جڑ سے اکھڑ پڑے تھے ۔ شیڈس ‘ جھونپڑیوں اور کچے مکانات کے چھتوں کو ہوا اڑا لے گئی ۔ بالخصوص وشاکھاپٹنم اور سریکاکلم کے کئی مقامات پر برقی کھمبے ‘ کیبلس اور ہورڈنگس سڑکوں پر گرپڑے ‘ آندھی اور طوفانی ہواؤں کا بدترین اثر وشاکھاپٹنم میں دیکھا گیا ۔ اس ضلع کے ساکن کئی افراد نے کہا کہ طوفانی ہواؤں کے سبب کھڑکیاں ٹوٹ گئیں حتی کہ کھڑکیاں بند کئے جانے کے باوجود ہمیں طوفانی ہواؤں کا اثر محسوس ہورہا تھا ۔ اضلاع وشاکھاپٹنم اور سریکاکلم میں مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا ۔ متاثرہ اضلاع کی تمام سڑکیں سنسان نظر آئیں ہے ‘ کیونکہ حکومت نے عوام سے درخواست کی تھی کہ طوفان کی شدت میں کمی تک وہ اپنے گھروں میں ہی موجود رہیں۔ ساحلی اضلاع میں کھڑی فصلوں کو بھی بھاری نقصان ہوا جس کی صحیح تفصیلات متعاقب منظر عام پر آئیں گی ۔