سپریم کورٹ کا فیصلہ، ناقص تحقیقات پر گجرات پولیس کی سرزنش ، فی الفور رہائی کا حکم
نئی دہلی ۔ 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج 2002ء کے اکشردھام مندر حملہ مقدمہ کے تمام 6 مجرمین کو بری کردیا جن میں 3 اشتہاری مجرمین بھی شامل ہے جو زیرقید ہیں اور اس مقدمہ کی ناقص تحقیقات کیلئے گجرات پولیس کی زبردست سرزنش کی کیونکہ مقدمہ کے تمام ملزمین کے خلاف انسداد دہشت گردی کے سخت گیر قانون پوٹا کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا۔
جسٹس اے کے پٹنائک اور جسٹس وی گوپال گوڑا پر مشتمل بنچ نے گجرات ہائیکورٹ اور ایک تحت کی عدالت کے احکام کو کالعدم کردیا جن کے ذریعہ 3 مجرمین کو سزائے موت دی گئی تھی۔ دیگر مجرمین 24 ستمبر 2002ء کو گاندھی نگر میں اکشردھام مندر پر ہوئے دہشت گرد حملے کیلئے عمرقید سے لیکر 10 سال کی سزائے قید پا رہے تھے۔ آدم اجمیری، شان میاں عرف چاند خان اور مفتی عبدالقیوم منصوری کو پوٹا کے تحت قائم کردہ خصوصی عدالت میں جولائی 2006ء میں سزائے موت دی تھی جبکہ دریا پور کے ایک مقامی نوجوان محمد سلیم شیخ کو عمر قید، عبدالمیاں قادری کو 10 سال اور الطاف حسین کو 5 سال کی قید کی سزاء دی گئی۔ عدالت نے حکم دیا ہیکہ ان تمام مجرمین کو فی الفور رہا کیا جائے بشرطیکہ وہ کسی دوسرے مقدمہ میں مجرم نہیں ہیں۔
مندر پر حملہ کے دوران نیشنل سیکوریٹی گارڈ (این ایس جی) نے 2 عسکریت پسندوں کو جن کی شناخت مرتضیٰ حافظ یٰسین اور اشرف علی محمد فاروق کی حیثیت سے کی گئی تھی، مبینہ طور پر پاکستان میں سرگرم تنظیم لشکرطیبہ سے ربط رکھے تھے۔ حملہ آوروں نے خودکار اسلحہ اور دستی بموں کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجہ میں 32 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں مندر کے 28 یاتری اور تین کمانڈوز اور اسٹیٹ ریزرو پولیس کا ایک کانسٹیبل شامل تھا۔