اکثریتی ووٹوں کی خاطر وقار کا انکاونٹر ، مسلم ووٹ …

مابعد انتخابات کون کس کا ساتھ دے گا سیاسی مفاہمت پر منحصر
حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : انکاونٹر میں 5 مسلم نوجوانوں کی ہلاکت سے کسے کیا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ برسر اقتدار تلنگانہ راشٹرا سمیتی جسے مسلم نواز تصور کیاجاتا رہا ہے وہ ان انکاونٹرس کے ذریعہ کیا حاصل کرنا چاہتی ہے ؟ حالیہ دنوں میں حیدرآباد ، رنگاریڈی اور محبوب نگر گریجویٹ نشست برائے قانون ساز کونسل میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی شکست اور بھارتیہ جنتاپارٹی کی کامیابی سے ٹی آر ایس خوف زدہ ہوچکی ہے ؟ مستقبل قریب میں منعقد ہونے والے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں اکثریتی طبقہ کے ووٹ سے محروم ہونے کے خوف سے تو یہ کارروائی نہیں ہوئی ؟ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد حکومت تلنگانہ پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ ٹی آر ایس مسلم نواز پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے ۔ گزشتہ دنوں بی جے پی کی رکن قانون ساز کونسل کی نشست پر بی جے پی کی کامیابی نے پارٹی کے حوصلے بلند کردئیے ہیں اور ریاستی صدر بھارتیہ جنتاپارٹی مسٹر جی کشن ریڈی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں کامیابی کے دعوے کررہے ہیں اور ان دعوؤں کی بنیاد اکثریتی ووٹوں کا اتحاد کہا جارہا ہے ۔ ٹی آر ایس نے قانون ساز کونسل کی نشست کے بعد نتائج کا جائزہ لینے کے بعد یہ محسوس کیا کہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی مسلم ووٹ شہری حدود میں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی ۔ اسی لیے اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں کواپنی سمت راغب کرنے کے لیے ٹی آر ایس کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں ۔ حکومت کی جانب سے 5 مسلم نوجوانوں کی انکاونٹر میں ہلاکت کے بعد بھی اب تک سرکاری طور پر بیان جاری نہ کئے جانے پر کئی شبہات پیدا ہونے لگے ہیں ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی نشستوں میں اضافہ کے بعد یہ نشستیں 200 تک پہنچ چکی ہیں اور ان پر بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے اثر میں اضافہ کرنے کی کوشش کررہی ہے اور ٹی آر ایس کو مسلم نواز قرار دیتے ہوئے فائدہ حاصل کررہی ہے ۔ ان نشستوں میں 50 سے زائد نشستوں پر مجلس کا قبضہ یقینی ہے لیکن 150 نشستوں میں تلگو دیشم ، بی جے پی ، کانگریس کے درمیان زبردست مقابلہ ہوسکتا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دعوؤں کے مطابق بی جے پی بھی 50 سے زائد نشستیں حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے اور تلگو دیشم کو بھی امید ہے کہ وہ 40 کے قریب نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی لیکن کانگریس کچھ کہنے سے قاصر ہے مگر یہ دعوے کیے جارہے ہیں کہ کانگریس بھی 50 کے قریب نشستیں حاصل کرے گی ۔ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے قائدین میں یہ احساس پیدا ہوچکا ہے کہ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو لبھانے کے جو اعلانات کیے جارہے ہیں وہ ووٹ میں تبدیل نہیں ہوسکتے بالخصوص حیدرآباد میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں مجلس کی نشستوں پر ٹی آر ایس کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا ۔ اسی لیے ممکن ہے کہ یہ حکمت عملی تیار کی گئی ہو کہ 5 مسلم نوجوانوں کی ہلاکت کے ذریعہ ٹی آر ایس اور حکومت پر لگائے جارہے مسلم نواز کے داغ کو صاف کرتے ہوئے اکثریتی طبقہ کے ووٹ کو راغب کیا جائے ۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی مستقبل میں این ڈی اے سے قربت اختیار کرے گی یا نہیں یہ علحدہ مسئلہ ہے لیکن مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کے انتخابات میں ٹی آر ایس کو اپنی ساکھ بچانے کے لیے کم از کم سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرنا ضروری ہے اور ٹی آر ایس قائدین کو یہ باور کروایا جاچکا ہے کہ جب تک اکثریتی ووٹوں کو قریب نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ ممکن نہیں ہے ۔۔