برسراقتدار جماعت میں کانگریس کے انضمام کیلئے اسمبلی میں قراداد کی منظوری کا امکان
حیدرآباد۔17مارچ(سیاست نیوز) کانگریس کے تلنگانہ راشٹر سمیتی میں انضمام کی قرارداد ریاستی اسمبلی میں منظور کی جائے گی! تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں موجود اپوزیشن ارکان اسمبلی کی تعداد میں بتدریج گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ مزید 4ارکان اسمبلی جو کہ کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں وہ تلنگانہ راشٹر سمیتی سربراہ سے رابطہ میں ہیں اور کسی بھی وقت تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ رکن اسمبلی کوتہ گوڑم مسٹر وی وینکٹیشور راؤ کی چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ان کے فارم ہاؤ ز واقع ایراولی میں ملاقات کی اطلاعات کے بعد کہاجا رہاہے کہ کانگریس کے 19 منتخبہ ارکان اسمبلی میں 9ارکان اسمبلی نے تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا ہے اور مزید 4 ارکان اسمبلی برسراقتدار جماعت سے رابطہ میں ہیں۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد تلنگانہ قانون ساز کونسل میں جس طرح تلگو دیشم پارٹی کے ارکان قانون ساز کونسل کے انحراف کو یقینی بناتے ہوئے تلگو دیشم کو تلنگانہ راشٹر سمیتی میں ضم کرنے کی قرار داد منظور کی گئی تھی اسی طرح کی صورتحال اب تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں پیدا ہوچکی ہے اور کہا جار ہاہے کہ کانگریس پارٹی سے انحراف کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان اسمبلی کی تعداد زیادہ ہوجانے کے فوری بعد منحرف ارکان اسمبلی کے گروپ کی جانب سے حقیقی کانگریسی گروپ کے طور پر خود کو پیش کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں کانگریس اراکین قانون ساز اسمبلی کے انضمام کی قرارداد پیش کرنے کا دعوی کرے گا۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی میں 9 ارکان اسمبلی کی شمولیت کے فیصلہ کے بعد اب کانگریس پارٹی ریاست میں قائد اپوزیشن کے عہدہ سے محروم ہو چکی ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے اپوزیشن کے خاتمہ کی جو کوشش شروع کی گئی تھی اس میں ٹی آر ایس کو مکمل کامیابی حاصل ہوجائے گی ۔ ریاست تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد تلنگانہ راشٹر سمیتی نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران کانگریس ارکان اسمبلی سے رابطہ کرنا شروع کیا تھا جس کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیداہوچکی ہے کہ کانگریس میں مختلف وجوہات کی بناء پر ناراض ارکان اسمبلی نے بھی تلنگانہ راشٹر سمیتی قیادت سے رابطہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت کی خواہش ظاہر کرنی شروع کردی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو ان کے حلقوں میں عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت کے لئے ترقیاتی امور کی ڈھال اختیار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے علاقہ کی ترقی کے لئے برسراقتدار جماعت میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں کے فوری نتائج کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا لیکن جمہوری نظام پر اس عمل کے منفی اثرات ہوں گے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ برسراقتدار جماعت کے قائدین میں کانگریسی ارکان اسمبلی کی شمولیت سے بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔