اپوزیشن کی چیف منسٹر پر تنقیدیں افسوسناک،مسترد شدہ پارٹیوں کو تنقید کا حق نہیں ، کے ٹی راما راؤ کا شدید ردعمل

حیدرآباد۔/5فبروری، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے اپوزیشن کی جانب سے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ پر کی جارہی تنقیدوں کو افسوسناک قرار دیا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے اپوزیشن سے سوال کیا کہ ریاست کی ترقی کیلئے سرگرم چیف منسٹر کے خلاف کیا وہ مقدمہ دائر کریں گے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ترقی کیلئے عزم مصمم کے ساتھ کام کرنا کیا چیف منسٹر کا جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کی سمت پیش قدمی کرنے والے چیف منسٹر کو اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔ ایسی پارٹیاں جنہیں عوام نے مسترد کردیا انہیں چیف منسٹر اور حکومت پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے قائدین کو چاہیئے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں کیونکہ عوام نے پارٹی کو مسترد کردیا ہے اس کے باوجود وہ سبق سیکھنے تیار نہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مخالف عوام پالیسیوں کے سبب عوام نے کانگریس کو سبق سکھایا۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ عوامی فیصلہ سے بابو نے سبق نہیں لیا۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش کا یہ بیان افسوسناک ہے کہ تلنگانہ میں رہ کر آندھرا پردیش حکومت چلانا ان کیلئے دوسرے ملک سے حکومت چلانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حیدرآباد اور تلنگانہ چندرا بابو نائیڈو کیلئے کسی غیر ملک کی طرح ہیں تو وہ آندھرا پردیش ریاست منتقل ہوجائیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں صرف ٹی آر ایس کیلئے ہی مستقبل ہے اور عوام کی واحد پارٹی ٹی آر ایس ہے۔ تلنگانہ جدوجہد کے دوران عوام کے سی آر کے ساتھ تھے اور سنہرے تلنگانہ کی تعمیر کیلئے بھی عوام کی تائید کے سی آر کے ساتھ ہے۔ انہوں نے قائدین اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پارٹی کی رکنیت سازی مہم کو کامیاب بنائیں۔ ٹی آر ایس حکومت عوام کی بھلائی کیلئے کئی نئی اسکیمات کا آغازکرچکی ہے لیکن اپوزیشن کو یہ برداشت نہیں ہورہا ہے۔