اپوزیشن کا مہا گٹھ بندھن صرف ایک سراب

بی جے پی 2019ء میں کامیابی حاصل کرے گی، امیت شاہ کی پیش قیاسی، مودی کے مخالف امیدوار کی پرواہ نہیں
ممبئی۔19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر بی جے پی امیت شاہ نے آج اپوزیشن کے ’’مہا گٹھ بندھن‘‘ (عظیم اتحاد) پر طنز کرتے ہوئے اسے ایک سراب قرار دیا اور اپنے تبصرے پر اعتماد ظاہر کیا۔ وہ جمہوری چوٹی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ امیت شاہ نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ شیوسینا بی جے پی کے ساتھ رہے گی اور آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اس کا ساتھ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان سے مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے مہاگٹھ بندھن کی حقیقت مختلف ہے۔ یہ اپوزیشن کا عظیم اتحاد موجود نہیں ہے اور صرف ایک سراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان سب کے خلاف 2014ء میں انتخابی جنگ کی تھی اور اس میں فاتح رہے تھے۔ انہیوں شکست دے کر حکومت قائم کی تھی۔ وہ تمام علاقائی قائدین ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکتے۔ صدر بی جے پی نے کہا کہ بی جے پی مغربی بنگال، شمال مشرقی ہند اور اوڑیشہ سے آئندہ انتخابات میں کامیاب رہے گی۔ انتخابات کے مسائل 5 سال میں ایک بار سامنے آتے ہیں۔ ہم کو قومی سلامتی یقینی بنانے اور کرپشن کو شکست دینے کی فکر ہے۔ ہم نے 8 کروڑ مکانوں کو بیت الخلا اور ڈھائی کروڑ مکانوں کو برقی توانائی سربراہ کی ہے۔ صرف بی جے پی ہی نہیں بلکہ یہ ملک کے لیے ضروری تھا کہ ایک مضبوط حکومت برسر اقتدار آئے۔ انہوں نے کہا کہ راستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے انتخابی نتائج یقیناً بی جے پی کی تائید میں نہیں ہیں لیکن اس کو 2019ء کے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ مربوط کرنا درست نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی انتخابات اور عام انتخابات کو مربوط نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں انتخابات مختلف مسائل کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں۔ یہ عوام کا فرض ہے کہ وہ اپنے قائدین کو اقتدار دے کر ان سے اپنی خدمت کے لیے مجبور کریں اور قائدین کو بھی یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے۔ 2014ء میں بی جے پی کی حکومت 6 ریاستوں میں تھی اور اب 16 ریاستوں میں ہے۔ اس لیے آپ ہی کہیئے کہ 2019ء کے انتخابات میں کون کامیابی حاصل کرے گا۔ ہم راجستھان مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں عوام کی رائے کا احترام کریں گے۔قومی صدر بی جے پی امیت شاہ نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ 2019ء کے انتخابات میں وزیراعظم کے عہدے کے لیے نریندر مودی کے خلاف کون مقابلہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی طاقت کے بلبوتے پر پیشرفت کریں گے، کسی کی کمزوریوں کی بنیاد پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتخابی نتائج کا تجزیہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ پارٹی سے کہاں پر غلطی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی انتخابات موضوعات عام انتخابات کے موضوعات سے مختلف ہوتے ہیں جبکہ حقیقی معاملت اس سے بھی زیادہ مختلف ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے جدوجہد کرنا عوام کا فرض نہیں ہے بلکہ انہیں ترغیب دینا ہمارا فرص ہے ۔ ہمیں اگر اقتدار ادا کیا جاتا ہے تو ہمیں اپنی کوتاہیوں کی بھی ذمہ داری تسلیم کرنی ہوگی۔