اپوزیشن کا اتحاد دراصل مخالف تلنگانہ عناصر کا گروپ: نرسمہا ریڈی

انتخابات روکنے کیلئے عدالتوں کا سہارا، 13 برسوں کی جدوجہد کے بعد تلنگانہ کا حصول
حیدرآباد۔8 اکٹوبر (سیاست نیوز) وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے چیف منسٹر اور ٹی آر ایس پر کانگریس قائدین کی تنقیدوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین دراصل انتخابات سے خوفزدہ ہیں اور انہیں شکست کا خوف ستارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی تائید حاصل کرنے کے لیے چیف منسٹر پر بے بنیاد الزام تراشی کی جارہی ہے۔ ٹی آر ایس رکن کونسل سرینواس ریڈی کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نرسمہا ریڈی نے کہا کہ شکست کے خوف سے کانگریس قائدین عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اور کسی طرح انتخابات کو ٹالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کانگریس کو چیلنج کیا کہ اگر اس میں ہمت ہو تو وہ اپوزیشن اتحاد کے بجائے تنہا مقابلہ کرے۔ تلگودیشم، سی پی آئی اور کودنڈارام کی تلنگانہ جنا سمیتی کے ساتھ اتحاد کا مطلب صاف ہے کہ اپوزیشن کو کامیابی پر یقین نہیں۔ تلنگانہ میں عوام کے ذہن کو وہ پڑھ چکے ہیں اور دوبارہ ٹی آر ایس حکومت کا قیام یقینی ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فہرست رائے دہندگان کے بارے میں کوئی بھی شکایت الیکشن کمیشن سے کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں عدالت سے رجوع ہونا ناقابل فہم ہے۔ انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن کو مکمل اختیارات ہیں جسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی قیادت میں 13 برسوں تک مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے مرکز کو تلنگانہ کی تشکیل پر مجبور کیا گیا۔ مرکزی حکومت تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لیے تیار نہیں تھی لیکن کے سی آر نے اسے جھکنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے آسانی سے تلنگانہ ریاست تشکیل نہیں دیا ہے۔ 13 برسوں میں عوام کی قربانیاں ہی ریاست کی تشکیل میں اہم رول ادا کرچکی ہیں۔ ٹی آر ایس نے نہ صرف مسلسل جدوجہد اور اس کے قائدین نے کئی قربانیاں دیں۔ ارکان اسمبلی اور پارلیمنٹ نے ایک سے زائد مرتبہ عہدوں سے استعفیٰ دیتے ہوئے دوبارہ عوامی تائید سے کامیابی حاصل کی۔ برخلاف اس کے کانگریس قائدین استعفیٰ دینے سے گھبراتے رہے اور وہ آندھرائی حکمرانوں کے دبائو کے تحت تلنگانہ کی مخالفت میں مصروف رہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بارے میں کانگریس قائدین کے بیانات حقائق سے بعید اور ذہنی توازن کھونے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس نے نہ صرف تلنگانہ کے ساتھ دھوکہ دہی کی بلکہ اسکامس اور بدعنوانیوں کے ذریعہ ملک کو تباہ کیا۔ 10 سالہ دور اقتدار میں جنا یگنم پروگرام کو دھنا یگنم میں تبدیل کرتے ہوئے کروڑ ہا روپئے کی بے قاعدگیاں کی گئیں غریبوں کے لیے اندراماں مکانات کو تعمیر کیے بغیر رقومات ہضم کی گئیں۔ اتم کمار ریڈی ہائوزنگ منسٹر کی حیثیت سے کئی اسکامس میں ملوث رہے۔ نرسمہا ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی کسانوں کو دو لاکھ روپئے قرض معافی کا اعلان کررہی ہے لیکن اسے اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ کانگریس زیر اقتدار کس ریاست میں کسانوں کا قرض معاف کیا گیا۔ کانگریس نے اگر 10 برسوں میں فلاحی اور ترقیاتی کام انجام دیئے ہوتے تو عوام انہیں دوبارہ اقتدار پر فائز کرتے۔ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو ہر مسئلہ کے لیے نئی دہلی رجوع ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ رعیتو بندھو اور رعیتو بیمہ اسکیمات ملک بھر میں کہیں نہیں ہے۔ کرناٹک میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی مخلوط حکومت نے بھی اس طرح کی اسکیمات شروع نہیں کی جبکہ کرناٹک کے کسان تلنگانہ کی اسکیمات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کودنڈارام پر تنقید کرتے ہوئے نرسمہا ریڈی نے کہا کہ کانگریس اور تلگودیشم سے مفاہمت کرتے ہوئے انہوں نے فاش غلطی کی ہے۔ تلنگانہ کی مخالفت کرنے والی تلگودیشم سے اتحاد کیا معنی رکھتا ہے۔ 40 لاکھ افراد کو آسرا پنشن دیئے جارہے ہیں، کیا یہ کودنڈارام کو دکھائی نہیں دیتا؟ تلگودیشم دور حکومت میں بشیرباغ پر کسانوں پر فائرنگ کی گئی لیکن آج اسی پارٹی سے مفاہمت کی جارہی ہے۔ نرسمہا ریڈی نے کہا کہ آندھراپردیش میں شکست کے بعد چندرا بابو نائیڈو حیدرآباد میں قیام کا منصوبہ رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ کانگریس سے اتحاد کے ذریعہ تلنگانہ میں تلگودیشم کا وجود برقرار رکھنے کوشاں ہیں۔