اپوزیشن جماعتوں کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا اجلاسوں میں تعاون کرنے کی خواہش

جاریہ سیشن میں ریکارڈ تعداد میں بلس کی منظوری، مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو کا بیان
حیدرآباد 21 ڈسمبر (سیاست نیوز) لوک سبھا کے جاریہ سیشن میں ریکارڈ تعداد میں بلز کی منظوری عمل میں آئی۔ جس میں لوک سبھا میں 17 بلز اور راجیہ سبھا میں 11 بلز کی منظوری شامل ہے۔ آج یہاں اپنے قیام حیدرآباد کے موقع پر مسرس جی کشن ریڈی صدر تلنگانہ بی جے پی، ڈاکٹر کے لکشمن فلور لیڈر تلنگانہ اسمبلی کے ہمراہ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی وزیر شہری ترقیات مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے اس بات کا انکشاف کیا اور بتایا کہ صرف ایک ہی پارلیمانی سیشن میں شاید اتنی کثیر تعداد میں مختلف بلس منظور کئے گئے۔ انھوں نے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص کانگریس کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ اپوزیشن جماعتیں بشمول کانگریس لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی میں ہنگامہ آرائی کے ذریعہ رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں جس کی وجہ سے مزید بلز منظور کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ مرکزی وزیر نے اپوزیشن جماعتوں سے لوک سبھا و راجیہ سبھا کے اجلاسوں کے آخری دو دن کے دوران کم از کم کارروائی کو پرامن جاری رہنے کیلئے تعاون کرنے کی اپیل کی اور کہاکہ کسی بھی مسئلہ پر جواب دینے اور مباحث کیلئے حکومت تیار ہے۔ لیکن اپوزیشن جماعتیں صرف پارلیمانی سیشن میں اپنی موجودگی کا اظہار کرنے کیلئے ہی غیر ضروری ہنگامہ آرائی، شوروغل اورگڑبڑ کررہی ہیں تاکہ حکومت کی جانب سے منظوری کے لئے پیش کی جانے والی مختلف بلز منظور نہ ہونے پائیں۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے اپوزیشن جماعتوں کا مضحکہ اُڑاتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم پارلیمانی سیشن میں شریک رہنے کا مطالبہ کرتے ہوئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی میں رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہاکہ اپوزیشن جماعتیں صرف اور صرف ووٹوں کی سیاست کیلئے لوک سبھا و راجیہ سبھا میں اس طرح کی غیر ضروری حرکتیں کررہی ہیں۔ مرکزی وزیر شہری ترقیات مسٹر وینکیا نائیڈو نے لکھوی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھوی کی ضمانت منظوری پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہاکہ لکھوی کو فی الفور سزا دیئے جانے کے اقدامات کرکے پاکستان اپنی حقیقت و سنجیدگی کو ثابت کرلینا چاہئے۔ علاوہ ازیں داؤد ابراہیم اور سید حفیظ کو فی الفور ہندوستان کے حوالہ کرنے کا پاکستان سے مطالبہ کیا۔ انھوں نے غریب افراد کیلئے تعمیر امکنہ اسکیم کے تحت 101 کروڑروپیوں کے مصارف سے امکنہ جات تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔