حیدرآباد /19 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ آسرا اسکیم کے تحت ہر غریب و مستحق افراد کو عزت کی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ آج اسمبلی کے آغاز کے ساتھ ہی کانگریس ارکان اسمبلی نے معذورین، معمرین اور بیواؤں کے وظائف کے تعلق سے تحریک التوا نوٹس پیش کرتے ہوئے مباحث کا مطالبہ کیا اور اسپیکر پوڈیم کے قریب پہنچ کر احتجاج کیا۔ حالت کو کنٹرول کرنے کے لئے اسپیکر اسمبلی مدھو سدن چاری نے اسمبلی کی کارروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کردی۔ بعد ازاں جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی چیف منسٹر تلنگانہ وظائف کے سلسلے میں بیان دینے اپنی کرسی سے اٹھے، لیکن کانگریس ارکان دوبارہ اسپیکر کے پوڈیم تک پہنچ کر احتجاج کیا۔ اس دوران چیف منسٹر نے کہا کہ اپوزیشن کا یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے، ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں صرف اپنی معطلی کے لئے اسمبلی آرہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت وظائف کے مسئلہ پر سنجیدہ ہے، کل ریاستی وزیر پنچایت راج کے ٹی آر نے اس مسئلہ پر بیان دینے کا وعدہ کیا تھا، وہ بیان دے رہے ہیں اور کل اس پر مباحث کے لئے بھی تیار ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آسرا اسکیم تلنگانہ کی باوقار اسکیم ہے۔ ماضی کی حکومت نے معمرین اور بیواؤں کو ماہانہ 200 روپئے اور معذورین کو 500 روپئے وظائف دیتی تھی، لیکن ٹی آر ایس حکومت نے بڑھتے اخراجات اور دیگر امور کا جائزہ لینے کے بعد تین گنا اور پانچ گنا اضافہ کیا ہے، یعنی معمرین اور بیواؤں کو ایک ہزار روپئے اور معذورین کو 1500 روپئے دے گی۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت اس سلسلے میں 800 کروڑ روپئے خرچ کرتی تھی، جب کہ تلنگانہ حکومت نے اس میں تین گنا اضافہ کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ واحد ریاست ہے، جہاں سب سے زیادہ وظائف دیئے جا رہے ہیں اور ریاست کے ہر مستحق فرد کو آسرا اسکیم کے تحت فائدہ پہنچایا جائے گا، لیکن غیر مستحق کو اس اسکیم سے دور رکھا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ بوگس ناموں کے اخراج کے لئے عہدہ دار کام کر رہے ہیں۔ حکومت کو اب تک 39.63 لاکھ درخواستیں وصول ہوئی ہیں، جن میں سے 24.21 لاکھ افراد کو مستحق قرار دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وظائف کی اجرائی پر حکومت 3350 کروڑ روپئے خرچ کر رہی ہے، جب کہ ماضی کے وظائف سے عوام کو بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہو رہی تھیں۔