لندن۔ 14؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ برطانیہ کے 10 سرکردہ اِماموں (ائمہ) اب انتہا پسندی کے آن لائن پروپگنڈہ کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہوچکے ہیں۔ آن لائن پروپگنڈہ کے سبب کئی برطانوی مسلمان خوفناک عسکریت پسند گروپ اسلامی اسٹیٹ (آئی ایس) میں بھرتی ہوگئے تھے۔ برطانیہ میں آئی ایس میں بھرتیوں کے لئے بدنام چند علاقوں سے تعلق رکھنے والے اماموں نے بعض انٹرنیٹ کمپنیوں کی مذمت بھی کی اور الزام عائد کیا کہ ان کمپنیوں نے اپنے ویب سائیٹس کو دہشت گردوں کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ بنادیا ہے۔
لندن، لیسسٹر، لیڈس، لینکاشائع، ویسٹ مڈلینڈس اور بکنگھم شائر کی نمائندگی کرنے والے مسلم مذہبی قائدین نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر موجودہ انتہا پسند مواد کو بروقت حذف نہ کئے جانے پر صورتِ حال مزید ابتر ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایس، مشرق وسطیٰ میں جنگجوؤں کی بھرتیوں اور اپنے پروپگنڈہ کے لئے سوشل میڈیا کا بکثرت استعمال کررہی ہے۔ ’سنڈے ٹائمز‘ کے مطابق مسلم قائدین کے گروپ نے انتہا پسندی کے انسداد کے لئے ایک نئی مہم شروع کی ہے اور عام مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ایسے دہشت گرد ویب سائیٹس کے بارے میں مطلع کریں، جن میں سر قلم کرنے، دہشت گردوں کی تربیت، وغیرہ جیسے ویڈیوز دکھائے جارہے ہیں یا پھر نفرت پر مبنی وعظ و بیان کیا جارہا ہے۔ ’اِمامس آن لائن‘ سے موسوم ایک نئی ویب سائیٹ شروع کی گئی ہے
جس کو برطانیہ بھر کے سنی اور شیعہ دونوں ہی مسلم گروپوں کی تائید حاصل ہے۔ یہ ویب سائیٹ مسلم نوجوانوں کو اپنے گھر چھوڑکر لڑائی کے لئے عراق اور شام روانہ ہونے سے روکے گی۔ ویب سائیٹ کے ایڈیٹر شوکت ورائچ نے کہا کہ رونگھٹے کھڑا کردینے والے تشدد، تقل و غارت گری سے لے کر نفرت کے بیج بونے کا پروپگنڈہ کرنے والے سب کے سب اس زہریلی و نقصان رساں مواد کی مثال ہیں جس سے ہم سب کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس مہم کو برٹش مسلم فورم کے مولانا شاہد رضا کی تائید بھی حاصل ہے۔ وہ لیسسٹر جامع مسجد کے امام ہیں۔ برمنگھم کے حضرت سلطان باہو ٹرسٹ کے ڈائریکٹر و پرنسپال حافظ غلام رسول نے بھی ائمہ کی آن لائن مہم کی تائید کی ہے۔