آندھرا پردیش میں قانون ساز کونسل ارکان کی تعداد میں اضافہ

لوک سبھا میں ترمیمی بل کی پیشکشی ، ٹی آر ایس کی تائید کے ساتھ انصاف رسانی پر زور
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ (سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے آندھراپردیش قانون ساز کونسل کے ارکان کی تعداد کو 50 سے بڑھاکر 58 کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں آج لوک سبھا میں ترمیمی بل پیش کیا گیا۔ ٹی آر ایس نے اس بل کی تائید ضرور کی۔ تاہم مرکز سے مطالبہ کیا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان جاری تنازعات کی یکسوئی کیلئے اقدامات کریں۔ پارٹی کے رکن ونود کمار نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون 2014 ء میں تلنگانہ کو دیئے گئے حقوق کی تکمیل کیلئے پارلیمنٹ میں ترمیمات پیش کریں۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج ترمیم پیش کرتے ہوئے آندھراپردیش قانون ساز کونسل کے ارکان کی تعداد میں اضافہ کی تجویز پیش کی۔ ٹی آر ایس رکن ونود کمار نے کہا کہ انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ آندھراپردیش کونسل کے ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم سے متعلق قانون میں دونوں ریاستوں کے لئے جو حقوق متعین کئے گئے، ان کی تکمیل کو یقینی بنانا مرکز کی ذمہ داری ہے، لہذا اس سلسلہ میں بھی حکومت کو ترمیمات پیش کرنی چاہئے ۔ ونود کمار نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان تنازعات کی یکسوئی پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ونود کمار کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دونوں ریاستوں کے درمیان مسائل کی یکسوئی کیلئے اقدامات کرے گی۔ ونود کمار نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان کئی تنازعات جاری ہیں اور کسی بھی ترمیم سے قبل دونوں ریاستوں سے مشاورت کی جانی چاہئے ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ سابق حکومت نے کئی امور کی یکسوئی کے بغیر ہی تقسیم سے متعلق بل پیش کیا تھا ۔ ان تمام نقائص کو موجودہ حکومت دور کرنے کی کوشش کرے گی۔ ٹی آر ایس رکن نے تلنگانہ کے 7 منڈلوں کو آندھراپردیش میں ضم کرنے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان منڈلوں کو تلنگانہ حکومت برقی سربراہ کر رہی ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے جواب دیا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں کے درمیان کئی مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ حکومت دونوں حکومتوں سے مشاورت کے ذریعہ ان کی یکسوئی کرے گی۔