آندھراپردیش میں چندرابابونائیڈو حکومت کے آج چھ ماہ مکمل

ریاست میں کوئی دارالحکومت نہیں ‘ 16000کروڑ روپئے کا بجٹ کا خسارہ اور تلنگانہ کے ساتھ تنازعات

حیدرآباد 7 ڈسمبر (پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش میں چیف منسٹر نارا چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت تلگودیشم حکومت کل اپنی تشکیل کے 6 ماہ مکمل کررہی ہے۔ نئے دارالحکومت کا قیام ، معیشت کی بہتری اور اس ریاست کو تیز رفتار ترقی کے راستے پر گامزن کرنا چندرا بابو نائیڈو حکومت کے یہ چند اہم چیلنجس ہیں۔ تقریباً 10 سال تک اپوزیشن میں رہنے کے بعد آندھرا پردیش کی تقسیم سے برہم آندھرائی عوام کی غیر معمولی تائید کے ساتھ اس ریاست پر 8 جون کو دوبارہ اقتدار حاصل کیا۔ اس کے باوجود مسٹر نائیڈو خود کو ایک تکلیف دہ اور غیر اطمینان بخش صورتحال سے دوچار محسوس کررہے ہیں کیونکہ غیر منقسم آندھرا پردیش کے تاج کا اصل نگینہ سمجھا جانے والا شہر حیدرآباد تلنگانہ کے حصہ میں جاچکا ہے اور فی الحال ان کی ریاست کا کوئی دارالحکومت بھی نہیںہے ۔ علاوہ ازیں 16,000کروڑ روپئے کے بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔ نائیڈو کی بھاری ذمہ داریوں میں زرعی قرضوں کی معافی، خود امدادی خواتین گروپوں کی مدد ، ملازمتوں کی فراہمی، اور سوشیل سکیوریٹی وظائف وغیرہ جیسے تلگودیشم کے انتخابی وعدوں کی تکمیل بھی شامل ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو نے چھ ماہ قبل وجئے واڑہ میں منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام میں بحیثیت چیف منسٹر حلف لینے کے فوری بعد قرضوں کی معافی، غیر قانونی شراب کے اڈوں کی برخواستگی کی فائنل پر دستخط کیا تھا ۔(باقی سلسلہ صفحہ سات پر)