حیدرآباد۔ 2؍فروری (سیاست نیوز)۔ آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی کی جانب سے مسترد کردہ ’’آندھرا پردیش تشکیل جدید بِل 2013ء‘‘ ایوان کی تجاویز کے ساتھ 3 فروری کو بذریعہ خصوصی طیارہ صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کو روانہ کردیا جائے گا۔ جس بِل کو آندھرا پردیش اسمبلی نے مسترد کیا ہے، وہ بِل 500 کیلو وزنی ہوچکا ہے جس میں 9 ہزار 72 تحریری تجاویز کے علاوہ 86 ارکان کے مباحث شامل ہیں۔ یہ بِل بروز پیر مرکزی وزارت داخلہ کے توسط سے صدر جمہوریہ ہند کو روانہ کردیا جائے گا۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب حکومت آندھرا پردیش کے اعلیٰ معتمدی عہدیدار کے ذریعہ یہ بِل روانہ کیا جارہا ہے جوکہ بِل کی حوالگی کے بعد حیدرآباد واپس ہوجائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی قانون ساز اسمبلی و کونسل کے ارکان کے مباحث کے علاوہ تحریری تجاویز و ترامیم کے لئے دی گئیں درخواستیں صدر جمہوریہ کی جانب سے روانہ کردہ بِل کے ساتھ منسلک کردی گئی ہیں تاکہ ان تمام کا وزارت داخلہ اور صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے بغور جائزہ لیا جاسکے۔ ایوان اسمبلی و قانون ساز کونسل کی جانب سے اسمبلی قوانین کی شق 77 کے تحت بِل کے استرداد کو مرکزی حکومت کی جانب سے بے معنی قرار دئے جانے کے بعد ریاست کی تشکیل جدید کے امکانات روشن ہوچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی سیما۔
آندھرا قائدین اس امر کو قانونی رسہ کشی کا شکار بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ سرکاری ذرائع کے بموجب اندرون دو یوم صدر جمہوریہ کی جانب سے بِل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اسے مرکزی کابینہ کی منظوری اور پارلیمنٹ میں پیش کشی کے لئے روانہ کردئے جانے کا امکان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سیما۔ آندھرا قائدین آندھرا پردیش کی تشکیل جدید کے مسئلہ کو روکنے کے لئے 4 فروری سے دہلی میں چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی کی زیر قیادت احتجاج شروع کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں جب کہ بعض سیما۔ آندھرا قائدین تشکیل تلنگانہ کو روکنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے متعلق بھی غور کررہے ہیں۔ 500 کیلو وزنی دستاویزات کی روانگی کے سلسلہ میں تمام انتظامات مکمل کرلئے جانے کی اطلاعات ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ بِل کی واپس روانگی کے سلسلہ میں خصوصی سکیوریٹی انتظامات بھی کئے جارہے ہیں تاکہ کسی قسم کی کوئی ہنگامہ آرائی یا ناخوشگوار واقعہ نہ ہونے پائے۔ واضح رہے کہ سابق میں صدر جمہوریہ ہند نے آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی کی رائے حاصل کرنے کے لئے جو بِل روانہ کیا تھا، اس پر رائے دینے کی مدت 23 جنوری مقرر کی گئی تھی۔ بعد ازاں چیف منسٹر کی خواہش پر اس مدت میں ایک ہفتہ کی توسیع کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے 30 جنوری تک کا وقت فراہم کیا تھا اور اس دوران چیف منسٹر نے صدر جمہوریہ کی جانب سے روانہ کردہ ’’آندھرا پردیش تشکیل جدید بِل 2013ء‘‘ کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی نوٹس دی تھی۔ بعد ازاں خود چیف منسٹر ہی نے اس بِل پر مباحث کے لئے ایک اور توسیع کی درخواست روانہ کی تھی جوکہ مسترد کردی گئی۔