آسام قتل عام مقام کو واپس ہونے سے مسلم خاندانوں کا پس و پیش

نارائن گوزی (آسام)۔ 11؍مئی (سیاست ڈاٹ کام)۔ آسام قتل عام مقام سے جان بچاکر نکلنے والے کئی مسلم خاندانوں نے اب اپنے گھروں کو واپس ہونے سے پس و پیش ظاہر کیا ہے۔ سیف الاسلام کے لئے یہ بڑی مشکل صورتِ حال ہے۔ وہ اپنے گاؤں کو جانا تو چاہتے ہیں، لیکن ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے رشتہ داروں کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا، ان کے رشتہ دار زخموں سے جانبر نہ ہوسکے، تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا۔ اپنے آنگن میں موت کا ننگا ناچ دیکھنے کے بعد کوئی بھی مسلم خاندان واپس جانے تیار نہیں ہے۔ بوڈو انتہا پسندوں کی غارت گری کے چشم دید گواہ پر حالات نے سکتہ طاری کردیا ہے۔ ضلع نظم و نسق کی جانب سے متاثرین کی بازآبادکاری کی ہر ممکنہ کوشش کی جارہی ہے۔

ان کے اعتماد کو بحال کرکے انھیں مکمل سکیوریٹی فراہم کرنے اور خوف دُور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس علاقہ میں خاطر خواہ فورس تعینات کی گئی ہے، لیکن دیہی عوام اپنی جان کو جوکھم میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ انھیں ڈر ہے کہ صورتِ حال معمول پر آنے کے بعد سکیوریٹی ہٹالی جائے گی۔ 26 سالہ سیف الاسلام نے کہا کہ میں اپنے گھر کو واپس جانا چاہتا ہوں، لیکن میری بیوی اور ماں کو ڈر ہے کہ ان کے رشتہ داروں کی طرح ان کا بھی حشر بھیانک کردیا جائے گا۔ میری ماں اور بیوی نے بوڈو انتہا پسندوں کی اندھادھند کارروائیوں کو دیکھا تھا۔ اس بہیمانہ کارروائی میں درندوں نے معصوم بچوں کو تک نہیں بخشا۔ سیف الاسلام کا خاندان ان کی اہلیہ، دو فرزندان،

ایک بھائی اور ماں پر مشتمل ہے۔ انھوں نے اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی نعشیں اُٹھائی ہیں۔ یہ تمام 6 ارکان بھانگرپاڑ مارکٹ کے ریلیف کیمپ میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ہم پر انتہا پسندوں نے اندھادھند حملہ کردیا جب کہ ہم اپنے رشتہ داروں کی مدد کے لئے جنگلات میں داخل ہوئے تھے۔ یہ بہت بڑے دُکھ کی بات ہے کہ جنگلات کے عہدیدار ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں، ہم ان کے ساتھ ہر تہوار مناتے ہیں، لیکن ان لوگوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے تباہی مچادی ہے۔ سیف الاسلام اب قطعی نئی جگہ پر منتقل ہونا چاہتے ہیں۔