آر ایس ایس سے علماء کے 6 سوالات، اندریش لاجواب

پہلا سوال یہ رہا کہ کیا آر ایس ایس ہندوستان کو ہندو ملک سمجھتی ہے۔ دوسرا سوال، کیا آر ایس ایس نے ایسا کوئی خاکہ تیار کیا ہے کہ ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کردیا جائے۔ تیسرا سوال، کیا ہندو راشٹر ہندو مذہبی کتابوں کے مطابق ہوگی یا آر ایس ایس نے کوئی نیا فلسفہ تخلیق کیا ہے؟ چوتھا سوال یہ رہا کہ وہ لوگ تبدیلیٔ مذہب سے کیا چاہتے ہیں۔ پانچواں سوال، کس قسم کا ’راشٹر پریم‘ (حب الوطنی) مسلمانوں سے آر ایس ایس چاہتا ہے۔ چھٹا سوال یہ رہا کہ اسلام کے بارے میں آر ایس ایس کے کیا نظریات ہیں؟

کانپور 17 فروری (سیاست ڈاٹ کام) علمائے دین کے ایک وفد نے سنی علماء کونسل کے جنرل سکریٹری کی قیادت میں آر ایس ایس کے سینئر کارکن اندریش سے ملاقات کرتے ہوئے سنگھ پریوار سے چھ سوالات کئے جن میںیہ استفسار شامل ہے کہ آیا ایسا خاکہ تیار کیا گیا ہے کہ ہندوستان کو ہندو (راشٹر) میں تبدیل کردیا جائے؟ مبینہ طور پر یہ کام بھگوا پارٹی کے ذمہ کردیا گیا ہے۔ اِس پر اندریش برہم ہوگئے۔ مسلم وفد نے دعویٰ کیاکہ اندریش نے اُن کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کردیا اور کہاکہ مسلم تنظیموں کی کانفرنس منعقد کی جانی چاہئے جہاں وہ اِن کے جوابات دیں گے۔ وفد نے کہاکہ آر ایس ایس کے سینئر کارکن اندریش جی سے گزشتہ رات ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران ’’ہم نے اُن سے چھ سوالات کئے لیکن اُن کے پاس اِن کا کوئی جواب نہیں تھا‘‘۔ سنی علماء کونسل کے معتمد عمومی حاجی محمد سلیس نے الزام عائد کیاکہ اندریش جی آر ایس ایس کے پرچارک اور تنظیم میں اقلیتی اُمور کے انچارج ہیں۔ وہ اِن سوالات پر برہم ہوگئے۔

اُنھوں نے کہاکہ یہ چھ سوالات ہیں جن کے جواب اندریش جی نہیں دے سکے۔ وہ (آر ایس ایس) کوئی خاکہ نہیں رکھتی۔ وہ لوگ صرف ہندو راشٹر کے بارے میں پروپگنڈہ کی بنیاد پر شوروغل کررہے ہیں۔ سلیس نے اندیشہ ظاہر کیاکہ اگر ہندو راشٹر مذہبی کتب کی بنیاد پر قائم کیا جائے تو دلت ایک بار پھر مندروں میں داخلہ سے روک دیئے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم نے سوال کیاکہ کیا نیا فلسفہ آر ایس ایس کی جانب سے تخلیق کیا جارہا ہے۔ اگر ایسا کیا جارہا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہندو دھرم مذہب نہیں، مذہبی ثقافت ہے۔ اِس صورت میں کوئی بھی مذہب تبدیل کرسکتا ہے۔ سلیس نے کہاکہ جب دستور آزادیٔ مذہب کی ضمانت دیتا ہے تو پھر کیوں آر ایس ایس کوئی قانون منظور کرنے سے خوفزدہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔ اگر کوئی مسلمان اسلام کو پسند نہیں کرتا تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ مذہب ترک کردے، وہ جاسکتا ہے۔ ہمارے پاس کسی کو مجبوراً مسلمان بنائے
رکھنے کا کوئی قانون نہیں ہے۔ سلیس نے کہاکہ جہاں تک حب الوطنی کا سوال ہے اِس کا تعلق ہمارے آباء و اجداد سے ہے جنھوں نے جناح اور پاکستان کو مسترد کردیا ، 1947 ء میں جب دو قومی نظریہ طے کیا گیا تھا۔ ہمارے اجداد نے جناح اور پاکستان کو مسترد کرکے گاندھی جی کو اپنا قائد تسلیم کیا تھا۔

ہندوستان ہمارا ملک ہے اور ہم دستور پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں۔ کیا وہ ہمیں وندے ماترم پڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں اور کیا یہ گیت ’بھارت ماتا‘ کی تصویر کے آگے گایا جائے گا۔ ’’جس کی تصویر اِن کے پاس موجود ہے، ہم اِسے قبول نہیں کرتے یہ اسلام کے خلاف ہے‘‘۔ 90 منٹ کی ملاقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ آر ایس ایس نے ہم سے خواہش کی کہ ہم مسلمانوں کا کوئی ’’سمیلن‘‘ منعقد کریں اور وہ ہمارے سوالات کے جواب دیں گے۔ سلیس نے کہاکہ جب آپ اِن سوالات کا جواب بند کمرہ میں نہیں دے سکتے تو کانفرنس میں کیسے دیں گے؟ اِس کے بعد ہم نے سوال کیاکہ کانفرنس کیوں منعقد کی جائے۔ سلیس نے کہاکہ مسلمانوں میں اِن مسائل پر بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ اِن سوالات کے جواب حاصل کرنے آئے ہیں جو اقلیتی برادری کی جانب سے کئے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے یقین ظاہر کیاکہ ہمارا جو بھی مذہب ہو ہمیں دستور کے ساتھ مخلص ہونا چاہئے۔ مذہب ہمارا شخصی مسئلہ ہے۔ یہ قومی مسئلہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک گاندھی جی کے اُصولوں پر عمل پیرا ہے۔ دریں اثناء ایک مقامی عالم دین نے جو اندریش کے ساتھ ملاقات میں شریک نہیں تھے، کل رات کہاکہ اِس ملاقات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ’’ہمارے نمائندوں کو صرف آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کرکے اپنے فرقہ کے بارے میں مسائل کو اُجاگر کرنا چاہئے تھا۔ سلیس نے مجھے ملاقات کے لئے طلب کیا تھا لیکن پہلے ہی اندریش سے ملاقات کرچکا ہوں۔ اُن سے دوبارہ ملاقات کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ ملاقات کی درخواست سے صرف اُسی صورت میں اتفاق کریں گے جبکہ بھاگوت ہمیں ملاقات کیلئے طلب کریں‘‘۔ عالم راجہ نوری نے کہاکہ اگر ہم بھاگوت سے ملاقات کرتے تو ہم اپنے مسائل ہندو قوم کے ایجنڈہ میں شامل کرواسکتے۔