گزشتہ سال کے بہ نسبت اس سال واقعات میں پچاس فیصد کا اضافہ: راجیو رتن
حیدرآباد 24 مئی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں گرمی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ریاست بھر میں آتشزدگی کے واقعات میں بھی زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں پیش آئے آتشزدگی کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو سال گزشتہ کے مقابلہ میں 50 فیصد تک اِن حادثات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ریاست بھر میں آگ لگنے کے پیش آرہے واقعات میں 100 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مسٹر راجیو رتن ڈائرکٹر جنرل ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ فائر سرویس ڈپارٹمنٹ کے بموجب محکمہ کی جانب سے عادل آباد اور عالم پور میں عارضی فائر بریگیڈ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ریاست بھر میں چھوٹے اور بڑے 60 تا 65 آگ لگنے کے واقعات پیش آرہے ہیں اور حیدرآباد میں 10 تا 12 آتشزدگی کے واقعات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں جن پر قابو پانے کے محکمہ کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں اور موسم گرما کے دوران آتش فرو عملہ کو چوکس رکھتے ہوئے اُنھیں ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ جمعہ کو 80 واقعات ریکارڈ کئے گئے جوکہ تشویش کا باعث ہے۔ مسٹر راجیو رتن نے بتایا کہ روزانہ عموماً 25 تا 30 آتشزدگی کے واقعات ریاست بھر میں ریکارڈ کئے جارہے ہیں جن میں بیشتر واقعات سوکھی لکڑی کے علاوہ گھریلو اشیاء اور برقی شاک سرکٹ سے متعلق ہے۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ شاٹ سرکٹ کے ساتھ ساتھ ٹرانسفارمرس میں آگ لگنے کی شکایات بھی موصول ہورہی ہیں۔ محکمہ فائر کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے ناگہانی واقعہ سے بچنے اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لئے جلتی ہوئی اشیاء کہیں بھی پھینکنے سے گریز کریں۔ محکمہ فائر کی جانب سے بہت جلد بائیک سرویس شروع کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں محکمہ فائر کی جانب سے آتش فرو عملہ کو انفیلڈ موٹر سائیکل فراہم کی گئی ہے جس پر آگ پر قابو پانے کے لئے درکار آلات نصب کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ان موٹر سیکلوں پر سائرن کے علاوہ لال بتی بھی نصب کی گئی ہے تاکہ حادثہ کی صورت میں بروقت آتش فرو عملہ کی رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ مسٹر راجیو رتن کے بموجب آتش فرو عملہ کی بروقت جائے حادثہ پر پہونچنے سے نہ صرف جانی و مالی نقصان سے بچا جاسکتا ہے بلکہ آتش فرو عملہ پہونچنے کے بعد فوری طور پر فائر بریگیڈ کی ضرورت نہیں رہتی اور بسااوقات تو فائر بریگیڈ کو طلب کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی کیونکہ عملہ کے پاس درکار آلات موجود ہونے کے سبب اُنھیں آگ پر قابو پانے میں کسی قسم کی دشواریاں نہیں ہوتیں اور وہ تقریباً 100 لیٹر اپنے ساتھ رکھے ہوتے ہیں جس کے بہتر استعمال کی اُنھیں خوب تربیت حاصل ہے۔