آئی اے ایس آفیسر کی موت ، کرناٹک اسمبلی اور پارلیمنٹ میں احتجاج

بنگلور۔19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن جماعتوں کے ایک فرض شناس اور دیانت دار آئی اے ایس آفیسر کی مشتبہ حالت میں موت کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کرناٹک اسمبلی میں آج تیسرے دن بھی دھرنا جاری رکھنے پر ایوان کی کارروائی 23 مارچ تک ملتوی کردی گئی جبکہ اس واقعہ کے خلاف ریاست بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی بی جے پی اور جنتادل سکیولر کے ارکان نے آج تیسرے دن بھی دھرنا جاری رکھتے ہوئے نعرے بلند کرتے ہوئے سی بی آئی تحقیقات کا اصرار کیا جبکہ حکومت اپنے موقف پر اٹل تھی کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے سی آئی ڈی اہلیت رکھتی ہے ۔ ایوان میں ایک بل کی پیشکشی اور ایک فلمی اداکار شیلر کی موت پر تعزیتی قرارداد پڑھنے کے دوران اپوزیشن ارکان ایوان کے وسط میں بیٹھے رہے۔ وزیر اعلی تعلیم مسٹر ارون دیشپانڈے نے کہا کہ حکومت آئی اے ایس آفیسر ڈی کے روی کی موت کی تحقیقات میں شفافیت کو یقینی بنائیں جس نے پیر کی شام اپنے اپارٹمنٹ میں سیلنگ فیان سے لٹک کر خودکشی کرلی تھی۔ حکومت کا یہ استدلال ہے کہ بادی النظر میں یہ معاملہ خودکشی کا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں اور متوفی آفیسر کے افراد خاندان نے اس نظریہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن بی جے پی لیڈر جگدیش شیٹر نے کہا کہ ایوان میں احتجاج کے باعث نظم و ضبط برقرار نہیں ہے۔ اسپیکر کاگوڑہ تمپا نے اچانک ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کردینے کا اعلان کیا بعدازاں بی جے پی اور جنتادل سکیولر کے ارکان اسمبلی نے ودھان سودھا کے قریب مجسمہ مہاتما گاندھی کے روبرو دھرنا دیا اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بلند کئے دریں اثناء بنگلور اور تمکورو ضلع میں آج بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے جو کہ روی کا آبائی ضلع ہے۔

تمکورو میں اے بی وی پی طلباء نے قومی شاہراہ پر راستہ روکو احتجاج کرتے ہوئے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاہم پولیس نے لاٹھی چارج کرکے انہیں منتشر کردیا۔ ضلع بھر میں آج مختلف تنظیموں کی اپیل پر بند منایا گیا۔ بنگلور میں زرعی یونیورسٹی کے طلباء نے جہاں سے روی نے اگریکلچر میں گریجویشن کیا تھا ایک جلوس نکال کر انصاف کا مطالبہ کیا۔ تاہم آئی اے ایس آفیسر روی کے خاندان کا الزام ہے کہ ان پر سیاسی دبائو تھا اور یہ خودکشی کا نہیں قتل کا معاملہ ہے جس کی سی بی آئی تحقیقات کروائی جائے۔ ریاست کے کئی ایک آئی اے ایس آفیسروں نے وزیراعظم نریندر مودی کو روانہ آن لائن عرضی میں مرکزی ادارہ کے ذریعہ تحقیقات کی گزارش کی۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے بموجب کرناٹک سے وابستہ بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے آج پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے بنگلور میں ایک نوجوان آئی اے ایس آفیسر کے موت کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا

اور اس مسئلہ پر کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر کیمکل اینڈ فرٹیلائزر اننت کمار اور وزیر قانون سدانندا گوڑا کی زیر قیادت بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے آج وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی اور آئی اے ایس آفیسر روی کی موت کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سابقہ چیف منسٹر کرناٹک اور لوک سبھا رکن مسٹر ایڈیورپا نے بتایا کہ اسپیکر سمترا مہاجن سے اجازت لے کر یہ مسئلہ ایوان میں رکھا جائیگا۔ مسٹر اننت کمار جو کہ بنگلور سے رکن پارلیمنٹ ہیں، نے کل یہ الزام عائد کیا تھا کہ بنگلور کے پولیس کمشنر نے روی کی موت کو خودکشی قرار دیتے ہوئے موت کا از خود نتیجہ اخذ کررہے ہیں۔ دریں اثناء لوک سبھا میں آج اس مسئلہ پر کانگریس اور بی جے پی ارکان میں زبردست بحث و تکرار ہوئی۔ جبکہ مرکزی حکومت نے کہا کہ کرناٹک کے آئی اے ایس آفیسر کی موت کی سی بی آئی تحقیقات کے لئے آمادہ ہے بشرطیکہ ریاستی حکومت اس خصوص میں سفارش کرے۔ جبکہ دیگر جماعتوں کے ارکان کے درمیان تاملناڈو اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں امن و قانون کی صورتحال پر لفظی جھڑپ ہوئی۔