بعض لوگ آئی ایس آئی ایس القاعدہ کو 2.0. کہتے ہیں۔ سنی شورش پسند پورے عراق میں یلغار کررہے ہیں تاکہ ’’شام تا ایران اسلامی خلافت‘‘ قائم کی جائے۔ شیعہ (شام، عراق، ایران) دوبارہ متحد ہوگئے ہیں۔ اُن کا الزام ہے کہ سعودی عرب اور ترکی آئی ایس آئی ایس کو اسلحہ و مالیہ فراہم کررہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ آئی ایس آئی ایس کی کسی بھی مملکت کی جانب سے تائید نہیں کی جارہی ہے۔ اس کی لوٹ مار اِسے کافی مالدار بناچکی ہے۔
تنظیم
٭ دہشت گرد گروپ اسلامی مملکت عراق جسے آئی ایس آئی بھی کہا جاتا ہے، عراق میں القاعدہ کی جانشین ہے۔
٭ اِس کی توسیع 2013 ء میں شام تک ہوئی اور اِسے اسلامی مملکت عراق و شام آئی ایس آئی ایس یا اسلامی مملکت عراق و لیوانٹ آئی ایس آئی ٹی کہا جانے لگا۔
٭ اس میں تقریباً 11 ہزار (عراق میں 6 ہزار) اور شام میں ایک ہزار تا 5 ہزار (جنگجو) ہیں۔
٭ اس کی صفوں میں نئے بھرتی ہونے والوں اور جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں کی شمولیت سے اضافہ ہوگیا ہے۔
٭ یہ اس کے زیرقبضہ علاقوں میں سخت قوانین نافذ ہیں۔ چوروں کے ہاتھ کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ زانیوں ، تمباکو نوشی کرنے والوں اور نماز میں شرکت نہ کرنے والوں کو کوڑے مارے جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی، فٹبال کھیلنا اور موسیقی پر امتناع عائد ہے۔
سربراہ
ابوبکر البغدادی ۔ مقصد سے انحراف کا القاعدہ پر الزام، خود کو بن لادن کا جانشین قرار دینے والے
٭ 1971 ء میں سمارہ میں پیدا ہوئے۔ عوض ابراہیم البدری السماری نام رکھا گیا۔
٭ تاریخ اسلام کی تعلیم حاصل کی۔ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اُنھوں نے بغداد یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کا مطالعہ بھی کیا۔
٭ باغی جنگجوؤں میں 2003 ء کے امریکی حملہ کے دوران شامل ہوگئے۔
٭ امریکہ میں 2006 ء میں گرفتار ہوئے اور بکہ کے عراقی کیمپ میں امریکی زیرانتظام قید میں رکھے گئے۔
٭ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں القاعدہ کی فوج میں بھرتی ہوگئے۔
٭ رہائی پر آئی ایس آئی میں شامل ہوگئے اور 2010 ء میں اِس کے
سربراہ بن گئے۔
مالدار ترین دہشت گرد تنظیم
٭ موصل پر آئی ایس آئی ایس کا قبضہ ہوگیا۔ ، فوجی کونسل کے سربراہ موصل کے قریب عراقی کمانڈرس آئی ایس آئی ایس کی یلغار میں۔
٭ 3 سال قدیم دہشت گرد تنظیم کی تفصیلات 160 کمپیوٹرفلائش اسٹکس سے حاصل ۔
٭ موصل پر آئی ایس آئی ایس کے قبضہ سے پہلے نقد رقم اور اثاثہ جات تقریباً 87 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر ۔ اب بینکوں کی لوٹ مار اور فوجی سربراہی کی مالیت ایک ارب 50 کروڑ پاؤنڈ سے زیاد۔
٭ زبردست پیمانے پر مشرقی شام کے تیل کے کنوؤں سے نقد رقم کی آمد جس پر 2012 ء کے اواخر تک اِس کا قبضہ رہا تھا۔ اِن میں سے چند حکومت شام کو دوبارہ بیچ دیئے گئے۔ قیمتی نوادرات کی بھی اسمگلنگ کی گئی۔