اِسرائیل کی حماس کے سینئر قائدین کے مکانات پر چن چن کر بمباری

غزہ سٹی۔ 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل نے آج مصری جنگ بندی تجویز کی ناکامی کے بعد حماس کے اعلیٰ قائدین کے مکانوں کو چن چن کر بمباری کا نشانہ بنایا اور فضائی حملوں میں شدت پیدا کرنے سے قبل سرحدی علاقوں کے ساکن لاکھوں عوام کو اپنی قیام گاہوں اور اس علاقہ کا تخلیہ کردینے کا انتباہ دیا۔ دریں اثناء واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب امریکہ نے حماس سے خواہش ظاہر کی کہ وہ جنگ بندی معاہدہ کی تجویز قبول کرلے۔ غزہ پر اسرائیل کی مسلسل بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی عورتوں اور بچوں سمیت مجموعی تعداد 203 ہو گئی ہے۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد 1500 سے بھی متجاوز ہو گئی ہے۔ اب تک ایک اندازے کے مطابق غزہ سے ایک لاکھ فلسطینی بے گھر ہو نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

غزہ کے طبی ذرائع کے مطابق چہارشنبہ کے روز کی گئی بمباری سے مزید دو فلسطینی شہری صبح سویرے شہید ہو گئے ہیں۔ چہارشنبہ کے روز صبح سویرے یہ کارروائی رفح شہر میں کی گئی تھی جہاں ان شہریوں کے گھروں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ علاوہ ازیں چہارشنبہ ہی کی صبح ایک فضائی حملے میں ایک اور فلسطینی شہید ہو گیا اس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ اسلامی جہاد گروپ کا کارکن تھا۔ پہلے حملے کے کچھ ہی دیر بعد کی گئی بمباری کی اس کارروائی کے دوران ایک اور شخص شہید ہو گیا۔ ہنگامی صورتحال کو ڈیل کرنے والے فلسطینی ادارے کے ترجمان اشرف القدرہ کے مطابق محمد ارجانی کے گھر واقع خان یونس میں بمباری سے اس کا 19 سالہ بیٹا عبداللہ شہید ہو گیا۔

اس واقعے کے صرف ایک گھنٹہ بعد اسرائیل کی طرف سے ایک ٹینک نے گولہ باری کر کے خان یونس کے مشرقی حصے میں ایک فلسطینی کو شہید کر دیا۔ تاہم ابھی چہارشنبہ کے روز غزہ پر کی جانے والی بمباری سے ہونے والے جانی نقصان کی مجموعی رپوٹ موصول نہیں ہو سکی ہے۔ واضح رہے آج اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کردہ جنگ کا نواں روز ہے۔ آج صبح سویرے ہونے والی شہادتوں کی ابتدائی اطلاعات کے بعد کل شہدا کی تعداد 203 ہو گئی ہے۔ جو 2012 میں اسرائیل پر مسلط کردہ آٹھ روزہ جنگ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ایک روز قبل منگل کے دن اسرائیل کے” آپریشن حفاظتی کنارے؛” کے رد عمل میں کیے جانے والے راکٹ حملوں میں پہلال اسرائیلی مارا گیا تھا۔ جبکہ چار اسرائیلیوں کے غیر معمولی طور پر زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔