دفتر سیاست میں ’حلف‘ کی ایک شام ناظم الدین مقبول کے نام ، جناب زاہد علی خاں و دیگر شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد۔ 16 نومبر (پریس نوٹ) حیدرآباد لٹریری فورم (حلف) کے زیراہتمام 14 نومبر کو گولڈن جوبلی ہال، سیاست میں حیدرآباد کے ادیبوں، شاعروں اور ادب نوازوں نے مل کر جناب ناظم الدین مقبول کے ساتھ بڑے اہتمام کے ساتھ ایک شام منائی۔ صدارت پروفیسر بیگ احساس صدر حلف نے کی، جبکہ پدم شری مجتبیٰ حسین، جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست اور کینیڈا سے تشریف لائے مہمان جناب ناظم الدین مقبول مہمانان خصوصی رہے۔ جناب رؤف خلش نے مہمان کا تعارف پیش کیا اور قمر جمالی جنرل سیکریٹری حلف نے جلسے کی نظامت کی۔ اُردو زبان میں ایسی کشش ہے کہ اس کا جادو سَر چڑھ کر بولتا ہے۔ خواہ کسی ملک کے ہوں یا کسی زبان کے بولنے والے ہوں، ایک بار جو اُردو زبان سے ان کا سابقہ پڑا تو وہ اس کے عاشق ہوگئے۔ محاورۃً بھی یہ بات ناظم الدین مقبول کی تقریر سے ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے ایک شادی میں سہرا لکھا کہ ان کے پاس فرمائشوں کی ڈھیر لگ گئی۔ پروفیسر بیگ احساس نے اپنے صدارتی کلمات میں یہ بات کہی اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ اُردو زبان کی بقاء سے بالکل مایوس نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اور بھی پُرامید ہیں۔ یونیورسٹیز میں Study India کے تحت بے شمار انگریزی طلباء اُردو سیکھ رہے ہیں۔ پروفیسر بیگ احساس نے نہایت پراُمید طریقے سے کہا کہ یہاں سرکاری طور پر اُردو زبان سے کوئی عناد نہیں ہے۔ پدم شری جناب مجتبیٰ حسین نے ’’نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا‘‘ کے عنوان سے مضمون پڑھا اور جناب ناظم الدین مقبول سے اپنی دیرینہ رفاقت کا ذکر بڑے شگفتہ انداز میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ناظم صاحب کو اس وقت سے جانتے ہیں جب وہ حیدرآباد کے محلے چپل بازار میں رہا کرتے تھے۔ انہوں نے ساتھ ساتھ گذرے زمانہ تعلیم اور دوستانہ شب و روز کا اعادہ کیا۔ ٹورنٹو میں ناظم صاحب کی مقبولیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نہایت ہی مختصر قیام کے لئے جب وہ ٹورنٹو پہنچے تو ناظم صاحب نے ایک جلسے کا اہتمام کیا جس میں 400 سے زیادہ سامعین موجود تھے۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کہا کہ اردو کے مستقبل سے وہ بہت مطمئن ہیں۔ داغ دہلوی نے غیرمنقسم ہندوستان میں جو شعر کہا تھا: ’’ہندوستان میں دھوم ہماری زبان کی ہے‘‘ اسے اب بہت اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے۔ ’’سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’گوگل‘‘ پر انہوں نے دیکھا کہ دنیا کے 107 ممالک میں سیاست کے قاری موجود ہیں اور دنیا کے 2500 شہروں میں روزنامہ سیاست پڑھا جاتا ہے۔ 14 اکتوبر کو ایک نیا ویب سائیٹ بھی شروع کیا گیا ہے جس سے آن لائن اُردو سیکھنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں کینیڈا سے تقریباً 30 ہزار افراد سیاست کی ویب سائیٹ سے استفادہ کرتے ہیں اور 10 ہزار قاری موجود ہیں۔ سیاست نے اُردو کی ترویج کیلئے اُردو اسکرپٹ کو ہندی لیپی میں پیش کیا ہے اور ٹرانسکرپشن کے ذریعہ اسے تلگو سے بھی جوڑنے کی کوشش جاری ہے۔ آندھرا پردیش کے علاقے رائلسیما کے لوگ اُردو زبان جانتے ہیں۔ مزید براں کہ عابد علی خاں ٹرسٹ کے ذریعہ لاکھوں افراد کو نہ صرف اُردو زبان دانی پڑھائی اور سکھائی جاتی ہے بلکہ ایوان اُردو کے ذریعہ عالم (میٹریکولیشن)، فاضل (انٹرمیڈیٹ) اس کے بعد ڈگری اور مزید اعلیٰ تعلیم کے لئے بھی سیاست مددگار ہے۔ جناب عابد علی خاں نے ناظم صاحب سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو سیاست کے لئے وہاں کی اُردو سرگرمیوں کی رپورٹس سیاست کے نمائندہ کی حیثیت سے بھیج سکتے ہیں۔ جناب ناظم الدین مقبول نے حلف کی جانب سے اس شام کے اہتمام پر دلی مسرت کا اظہار کیا کہ اس کی وجہ سے وہ اپنے بے شمار دیرینہ دوستوں سے مل سکے۔ روٹی روزی کی تلاش میں انہیں وطن چھوڑنا پڑا اور دیار غیر میں دربدری کے بعد اب ٹورنٹو میں مقیم ہیں۔ ٹورنٹو (کینیڈا) میں اُردو کی صورتحال ویسی نہیں تھی جیسی اب ہے۔ اگرچہ کہ مشاعروں اور موسیقی کی محفلیں ہوتی تھیں مگر سامعین میں 50 سال سے نیچے کوئی نہ ہوتا تھا۔ تب انہوں نے اُردو کی شمع کو روشن کرنے کا عہد کیا اور اپنے پڑوس کی دو لڑکیوں کو اُردو پڑھانا شروع کیا۔ آج موصوف کے دو مدارس چلتے ہیں جہاں مفت اُردو تعلیم دی جاتی ہے۔ ہر ہفتہ دو کلاسیس ہوتی ہیں۔ آج ان دو مدارس میں طلباء و طالبات کی تعداد 480 ہے۔ اس سال 14 ستمبر کو مزید 130 طلباء نے اپنے نام رجسٹر کروائے۔ جبکہ 280 طلباء و طالبات نے زبان پر دسترس حاصل کرلی اور کسی بھی اخبار کے کسی بھی پیراگراف کو روانی سے پڑھنے اور لکھنے کے قابل ہیں۔ ان مدارس کا خرچ موصوف خود اٹھاتے ہیں اور کچھ ہمدردان اُردو مفت پڑھاتے ہیں۔ مزاحیہ فنکار جناب دولت رام جو ناظم الدین صاحب کے کلاس میٹ رہے ہیں، شال اور گلپوشی کی۔ اس جلسے میں شہر کے ادب دوست احباب رفقاء اور معززین نے شرکت کی۔ آخر میں قمر جمالی نے شکریہ ادا کیا۔