روسٹر سسٹم پر عمل نہ کرنے پر جج کی ناراضگی
حیدرآباد۔/27جولائی، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود میں 66 اردو آفیسرس کے تقرر کا معاملہ آج ہائی کورٹ میں اس وقت نیا موڑ اختیار کرگیا جب عدالت نے تقررات میں روسٹر سسٹم پر عمل آوری نہ کئے جانے کا سختی سے نوٹ لیا اور اس سلسلہ میں حکومت کو پیر تک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ جسٹس ٹی نوین راؤ کے اجلاس پر مقدمہ کی سماعت ہوئی اور فاضل جج نے فریقین کے وکلاء کی سماعت کے بعد گریڈ I کے 6 عہدیداروں کے امتحانی نتائج کو مزید 6 ہفتوں تک جاری نہ کرنے کی ہدایت دی۔ گورنمنٹ پلیڈر نے جب عدالت کو بتایا کہ گریڈ II کے 60 آفیسرس کے تقررات کے احکامات جاری کردیئے گئے اور ان میں سے بیشتر نے متعلقہ محکمہ جات میں اپنی ذمہ داری سنبھال لی۔ اس پر فاضل جج نے گریڈ II کے تمام 60 آفیسرس کو مقدمہ میں فریق بنانے کی ہدایت دی۔ عدالت نے درخواست گذار امیدواروں کو علحدہ حلف نامہ داخل کرنے کا مشورہ دیا۔ حکومت پیر کو جوابی حلف نامہ داخل کرے گی جبکہ مقدمہ کی سماعت منگل تک ملتوی کی گئی ہے۔ درخواست گذاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تقررات کے نوٹیفکیشن میں روسٹر سسٹم کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ فاضل جج اس مسئلہ پر گورنمنٹ پلیڈر کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ گریڈ II کے تمام منتخب امیدواروں کو مقدمہ میں فریق بنانے کی ہدایت دی۔ اس طرح اردو آفیسرس کے تقرر کے معاملہ سنگین نوعیت اختیار کرچکا ہے۔