واشنگٹن۔ 4 فروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر براک اوباما نے مغموم لہجہ میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اُردن کے پائلٹ کو زندہ جلا دینے کا ویڈیو دیکھ کر انہیں یہ اندازہ ہوگیا کہ دولت اسلامیہ کے دہشت گرد کتنے ظالم اور سفاک ہیں۔ یاد رہے کہ دولت اسلامیہ نے عراق اور شام کی کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ اپنے بیان میں اوباما نے مزید کہا کہ وہ اس غم کے لمحات میں اُردن کے عوام کے ساتھ ہیں جنہیں اپنے جواں سال پائلٹ کی دائمی جدائی کا غم سہنا پڑا۔ براک اوباما نے بعدازاں اپنے دفتر میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ القصاصبیح کی جواں مردی اور ملک کے تئیں وفاداری کو وہ سلام کرتے ہیں جنہوں نے لمحہ آخر تک خوفزدہ ہونا گوارہ نہیں کیا۔ دولت اسلامیہ کے دہشت گرد بزدل ہیں اور انہوں نے جو کچھ کیا وہ بزدلی کی ادنیٰ ترین مثال ہے۔ کیا کسی بے قصور اور نہتے شخص کو موت کے گھاٹ اُتار دینا اور وہ بھی انتہائی سفاکانہ انداز میں، کیا جواں مردی کہلاتی ہے؟ آج دنیا میں دولت اسلامیہ کے خلاف ایک محاذ بنتا جارہا ہے اور جو لوگ بھی دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ستائے گئے ہیں، وہ ان کی بیخ کنی کے لئے کسی بھی حد تک جانے تیار ہیں۔ بعدازاں ایک مختصر پریس کانفرنس کے دوران بھی اوباما نے دولت اسلامیہ کے ذریعہ اردنی پائیلٹ کی ہلاکت کو ایک بزدلانہ کارروائی سے تعبیر کیا اور کہا کہ آج دولت اسلامیہ نے پوری دنیا میں اپنے دشمن پیدا کرلئے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ وہ ان دشمنوں کی زد میں آنے سے بچ جائے۔ کسی نہ کسی کا تیر تو نشانہ پر لگے گا ہی! قبل ازیں وزیر خارجہ جان کیری نے تقریباً 60 ممالک کے مختلف نمائندوں کا خیرمقدم کیا جن میں واشنگٹن ہی میں موجود مختلف ممالک کے 35 سفراء بھی شامل ہیں جو دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کے حلیف ہیں۔