اوپینین پول : عام آدمی پارٹی کو 35 نشستیں

70 رکنی دہلی اسمبلی دوبارہ معلق ۔ بی جے پی کو 29 اور کانگریس کو 6 سیٹیں متوقع
نئی دہلی ، 2 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ایسے وقت جبکہ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال اور بی جے پی کی وزارت اعلیٰ امیدوار کرن بیدی پارٹی اشتہارات کے بارے میں ایک دوسرے پر تنقیدیں کررہے ہیں، ایک اوپینین پول نے آج دہلی میں دوبارہ معلق اسمبلی کی پیش قیاسی کی ہے جس میں عام آدمی پارٹی 35 نشستوں کے ساتھ واحد سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھر آنے کا امکان ہے۔ بی جے پی کے حق میں ممکنہ طور پر 29 سیٹیں بتائی گئی ہیں۔ اے بی پی نیوز ۔ نیلسن کی جانب سے منعقدہ سروے نے 70 رکنی ایوان میں کانگریس کو 6 نشستیں حاصل ہونے کی پیش قیاسی بھی کی ہے۔ ایک طرف دہلی میں گرما گرم انتخابی مہم دیکھنے میں آرہی ہے جس میں سرکردہ بی جے پی قائدین جیسے پارٹی سربراہ امیت شاہ سے لے کر وزیراعظم نریندر مودی تک ریلیاں منعقد کررہے ہیں، تو دوسری طرف اس سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ رائے دہندے قومی دارالحکومت میں ہنوز بی جے پی کے مقابل عام آدمی پارٹی کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ رجحان بی جے پی کے اس اعتماد کے باوجود ہے کہ اسے واضح اکثریت کے ساتھ جیت حاصل ہوجائے گی۔ صدر بی جے پی امیت شاہ نے 30 جنوری کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا: ’’انتخابی سیاست میں ہم کسی الیکشن کو آسان نہیں سمجھتے ہیں۔ ہمیں دہلی میں دو تہائی اکثریت کا یقین ہے۔‘‘ اے بی پی نیوز۔ نیلسن کے سابقہ سروے میں کلیدی رجحان نے عام آدمی پارٹی کی عددی طاقت میں بتدریج اضافے اور بی جے پی کے تئیں حمایت میں گراوٹ کا اشارہ دیا ہے ۔ اے بی پی نیوز کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ نومبر میں کئے گئے سروے کے مطابق بی جے پی کو 46 نشستیں، عام آدمی پارٹی کو 18 اور کانگریس کو 5 سیٹیں حاصل ہورہی تھیں۔ ڈسمبر کے سروے میں بی جے پی کے حق میں 45 نشستیں نظر آئیں، عام آدمی پارٹی کو 17 اور کانگریس کو 7 سیٹوں پر کامیابی مل رہی تھی۔ جنوری کے سروے میں بی جے پی کو 34 ، عام آدمی پارٹی کو 28 اور کانگریس کو 8 نشستیں حاصل ہوتی دکھائی دیں۔ اب جبکہ 7 فبروری کا الیکشن قریب تر ہورہا ہے، دہلی میں اب واضح طور پر کجریوال اور بیدی کے درمیان راست مقابلہ نظر آرہا ہے۔ بی جے پی نے بیدی سے کافی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں، مگر سروے ظاہر کرتا ہے کہ انھیں وزارت اعلیٰ امیدوار بنانے پر بی جے پی کو خاص فائدہ نہیں ہوا ہے۔ اس دوڑ میں کانگریس کے اجئے ماکن بہت پیچھے ہیں۔