آن لائن ادخال فیس کی شرط پر سینکڑوں طلبہ کے لیے نقصان دہ ، حکومت کو لبنیٰ ثروت کا مکتوب
حیدرآباد ۔ 21 نومبر ۔ ( سیاست نیوز ) تلنگانہ اسٹیٹ اوپن اسکول امتحانات کے لئے صداقتنامہ پیدائش کا لزوم غریب طلبہ کے لئے دشواری کا سبب بن رہا ہے ۔ اسی طرح آدھار کارڈ کے بغیر آن لائن فارمس کے ادخال میں ہونے والی دشواریوں سے سینکڑوں طلبہ کے امتحانات میں شرکت سے محروم رہنے کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے ۔ سابق میں آندھراپردیش اوپن اسکولس سسٹم کے تحت دسویں کے امتحانات میں شرکت کیلئے ایک حلف نامہ داخل کرنا ہوتا تھا جبکہ اس مرتبہ اچانک صداقتنامہ پیدائش کا لزوم طلبہ کیلئے تکلیف کا باعث بن رہا ہے چونکہ صداقتنامہ پیدائش کا حصول بھی انتہائی دشوارکن ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ اوپن اسکول سسٹم کے تحت امتحانات میں شرکت کے خواہشمند طلبہ کو ہونے والی ان دشواریوں پر ڈائرکٹر آندھراپردیش اوپن اسکول سسٹم کو روانہ کردہ مکتوب میں محترمہ لبنیٰ ثروت نے خواہش کی ہے کہ نئے شرائط جو عائد کئے گئے ہیں اُنھیں فوری طورپر برخواست کیا جائے اور اگر ان کا لزوم ناگزیر ہو تو ایسی صورت میں آئندہ تعلیمی سال سے یہ لازم قرار دیا جائے ۔ اوپن اسکولس سسٹم کے تحت ایس ایس سی امتحان تحریر کرنے والے بیشتر طلبہ میں ایسے امیدوار شامل ہوتے ہیں جن کا تعلق سطح غربت سے نیچے زندگی گذارنے والے خاندانوں سے ہوتا ہے یا پھر وہ معاشی و تعلیمی طورپر پسماندہخاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کے پاس تمام دستاویزات کا موجود ہونا ممکن نہیں ہے ۔ اس طرح کے طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ جو تعلیم میں دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اوپن اسکول سسٹم کو اختیار کرتے ہیں انھیں سماجی دھارے میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا جانا انتہائی ضروری ہے ۔ حکومت کی جانب سے آدھار کارڈ اور صداقتنامہ پیدائش منسلک کرنے جیسے شرائط کے باعث جو نوجوان معاشی پسماندگی کے باوجود تعلیم میں دلچسپی کے سبب اوپن اسکول سسٹم کے ذریعہ ایس ایس سی کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اُن میں بد دلی پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ محترمہ لبنیٰ ثروت نے بتایا کہ اوپن اسکول سسٹم کے تحت ہونے والے امتحانات میں شرکت کرنے والوں میں بڑی تعداد لڑکیوں کی ہوتی ہے ۔ علاوہ ازیں ایسے طلبہ بھی اوپن اسکول سسٹم سے رجوع ہوتے ہیں جوکہ بچپن میں کسی نہ کسی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ان طلبہ کو مواقع فراہم کرنے کے بجائے سختیاں پیدا کرتے ہوئے انھیں تعلیم کی طرف بڑھنے سے روکنا نہیں چاہئے چونکہ نوجوانوں کی تعلیمی ترقی کے ذریعہ ہی بہتر معاشرہ کی تشکیل یقینی بنائی جاسکتی ہے ۔