مسلم قبرستان کے قیام کے معاملہ پرعوام کو گمراہ نہ کرنے کا مشورہ ، ایم ششی دھرریڈی
حیدرآباد 16مئی (سیاست نیوز)۔اولڈ کسٹم بستی بیگم پیٹ میں مسلم قبرستان کا قیام تعطل کا شکارہوتانظر آرہاہے۔ حیدرآباد اوررنگاریڈی ضلع کے حکام کے مطابق تلنگانہ کے وزیرکمرشیل ٹیکسس اور سینماٹو گرافی ٹی سرنیواس کی ہدایت پر کمشنر سروے سٹیلمنٹس اینڈلینڈ ریکارڈس نے ضلع حیدرآباد اور رنگاریڈی کے حکام سے مذکورہ بستی میں مسلم قبرستان کے قیام کے لیے کیے جارہے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ حکام کا کہناہے کہ کمشنر سروے سٹیلمنٹس اور لینڈ ریکارڈ نے اس سلسلہ میں حیدرآباد اور نگاریڈی ضلع انتظامیہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔نمائندہ سیاست نے مسلم قبرستان کے قیام کے متعلق مزید تفصیلات کے لیے جوائنٹ ڈائریکٹر (سروے ) اے بھاسکر سے بات کی۔ مسٹربھاسکر نے بتایا کہ ریاستی وزیرٹی سرنیواس کی ہدایت کے بعد کمشنر سروے سٹیلمنٹس اور لینڈر یکارڈ س نے حیدرآباد ضلع کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور رنگاریڈی ضلع کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو ایک ہفتے میں تفصیلی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جوائنٹ ڈائریکٹر (سروے ) نے ہمیں بتایا کہ رنگاریڈی اورحیدآباد کے حکام سے موصول ہونے والی جانکاری کا تفصیلی جائزہ لیاجائیگا۔جس کے بعداولڈ کسٹم بستی بیگم پیٹ میں مسلم قبرستان کے لیے زمین کی نشاندہی کی جائیگی۔حکام کاکہناہے کہ ضرورت پڑنے پرایک اور تازہ سروے کرکے حیدرآباد پبلک اسکول یعنی (ایچ پی ایس ) کوماضی میں الاٹ کردہ زمین کی نشاندہی کی جائیگی۔اتناہی نہیں ایچ پی ایس کے زیراستعمال زمین کا بھی تفصیلی جائزہ لیاجائیگا۔تاکہ ایچ پی ایس سے زمین کو حاصل کرکے مسلم قبرستان کے لیے 2ایکڑ زمین آلاٹ کی جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں اے بھاسکرنے بتایا کہ کمشنر سروے سٹیلمنٹس اینڈ لینڈ ریکارڈس کی جانب سے سال 2006ء میں کرائے گئے ایریل سروے کی تفصیلات بھی حاصل کرنے کے لیے حکمت عملی تیارکی جارہی ہے۔تاہم جوائنٹ ڈائریکٹر (سروے ) کاکہناہے حیدرآباد اور رنگاریڈی ضلع انتظامیہ سے تفصیلات حاصل کرنے اور تازہ سروے کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔حکام کاکہناہے کہ چونکہ مسلم قبرستان کے قیام کے لیے زمین کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔اس لیے اولڈ کسٹم بستی میںمسلم قبرستان کے قیام کے لیے کافی وقت لگ سکتاہے۔تاہم ذرائع کا کہناہے کہ حکومت جی ایچ ایم سی اورصنعت نگراسمبلی حلقہ کے امکانی ضمنی انتخابات سے قبل ہی اولڈ کسٹم بستی بیگم پیٹ میں مسلم قبرستان قائم کرناچاہتی ہے۔ وہیں دوسری جانب مسلم قبرستان کے قیام کے معاملے پرحکمران جماعت اوریاست کی اہم اپوزیشن جماعت کانگریس کے لیڈرایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ریاستی وزیرکمرشیل ٹیکسس وسینما ٹوگرافی ٹی سرنیواس کا کہناہے کہ ٹی آرایس حکومت بیگم پیٹ کے مسلمانوں سے کیے گئے وعدے کو پورا کریگی۔اور بہت جلد ہی مسلم قبرستان کا قیام عمل میں آئیگا۔وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر سابق رکن اسمبلی صنعت نگر وسابق نائب صدرنشین این ڈی ایم اے ڈاکٹر ایم ششی دھرریڈی کا کہناہے کہ مسلم قبرستان کے قیام کے معاملے پر ٹی سرنیواس عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 25اپریل 2015کو ششی دھرریڈی نے ضلع کلکٹر رنگاریڈی اورنائب وزیراعلیٰ کے سری ہری سمیت دیگر منتخبہ نمائندوں کو ایک مکتوب روانہ کیاہے۔اس مکتوب میں ششی دھرریڈی نے بیگم پیٹ۔فتح نگر لنک روڈ سے متصلہ زمین پرمندر کے قریب ،مسلم قبرستان کے قیام کی تجویز پر افسوس جتایا ۔ مسٹرریڈی کا کہناہے مذکورہ زمین پرایچ پی ایس کا سی بی ایس سی بلاک تعمیرہونے والا ہے اس لیے وہ زمین مسلم قبرستان کے لیے الاٹ نہیں کی جاسکتی ہے۔ کانگریس لیڈر کا کہناہے کہ ایچ پی ایس کے عقب میں واقع زمین سروے نمبر 147/1پر واقع ہندوششمان گھاٹ کے باوز میں 1ایکڑزمین مسلم قبرستان کے لیے الاٹ کی جاسکتی ہے۔ششی دھرریڈی کاکہناہے کہ ایچ پی ایس کے انتظامیہ نے مسلسل نمائندگی پر مسلم قبرستان کے قیام کے لیے اسکول کے عقب میں 4ایکڑ 30گنٹہ زمین ہندوششمان گھاٹ کی توسیع اور مسلم قبرستان کے لیے مختص کرنے پررضامندی کااظہارکیاتھا۔تاہم گذشتہ سال صدرراج اورپھراسمبلی انتخابات کے لیے انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے باعث مسلم قبرستان کا قیام اور ہندوشمشان گھاٹ کی توسیع کے فیصلہ پرعمل نہیں کیاجاسکا۔ ششی دھرریڈی کا کہناہے کہ ایچ پی ایس نے کئی مرتبہ سڑکوں کی توسیع، برقی اسٹیشن کے قیام کے لیے حکومت کو زمین فراہم کی ہے۔ہندوشمشان گھاٹ کی توسیع اور مسلم قبرستان کے لیے 4ایکڑ 30 گنٹے زمین الاٹ کرنے پرتلنگانہ حکومت کی جانب سے ضلع ورنگل میں حیدرآباد پبلک اسکول کے قیام کے لیے 40ایکڑزمین آلاٹ کرانے کے لیے ماضی میں حکومت سے نمائندگی کی گئی تھی۔نائب وزیراعلیٰ کڈیم سری ہری نے ماضی میں ورنگل میں ایچ پی ایس کے قیام کے لیے40ایکڑزمین الاٹ کرانے کا یقین دلایاتھا۔جس کے بعد ایچ پی ایس کے انتظا میہ نے اسکول کے عقب میں موجود4 ایکڑ 30گنٹہ زمین کو ہندوششمان گھاٹ کی توسیع اور مسلم قبرستان کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔تاہم فتح نگر۔بلکم پیٹ لنک روڈ کی افتتاحی تقریب کے بعد تلنگانہ کے وزیراعلیٰ نے مسلم قبرستان کے لیے زمین الاٹ کرنے کااعلان کیاتھا۔تاہم ششی دھرریڈی کی جانب سے نشاندہی کردہ زمین پرمسلم قبرستان کے قیام سے متعلق کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائیں گئے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہناہے مسلم قبرستان کے قیام کے لیے سیاست کوبالائے طاق رکھ کرتمام سیاسی لیڈروں کو متحدہ کوشش کرناچاہیے۔مقامی ہندواورمسلم افراد نے حال ہی ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے یہ اعلان کیاتھا کہ مسلم قبرستان کے لیے ایسی جگہ کا تعین کیاجائے جو تنازعات سے پاک ہو ۔ اورتمام طبقات کے لیے قابل قبول ہو۔ صنعت نگرکے سابق کارپوریٹرایوب خان کا کہناہے کہ مسلم قبرستان کا قیام اور ہندوششمان گھاٹ کے لیے انسانی خدمت کے جذبہ کے تحت جنگی خطوط پرفیصلہ کیاجاناچاہیے۔وہیں تحریک مسلم قبرستان کمیٹی کے سابق صدر سلیم خان کا کہناہے کہ مسلم قبرستان کے لیے ایچ پی ایس میں واقع زمین الاٹ کی جاتی ہے تووہ اسکاخیرمقدم کریں گے۔سیلم خان کا کہناہے کہ 15سال سے مسلمان قبرستان کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس لیے انہیں اب اورانتظارنہیں کراناچاہیے۔مقامی کانگریس لیڈرشیخ غوث نے کہا مسلم قبرستان کے قیام کے لیے تنازعات سے پاک زمین الاٹ کی جانی چاہیے۔