اولا اور اوبر خانگی ٹیکسیوں کی لوٹ کھسوٹ

شہر ی مالی بوجھ کا شکار، خانگی ٹیکسی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی ضرورت

حیدرآباد۔17فروری(سیاست نیوز) اولا اور اوبر کی خدمات شہریوں کیلئے سہولت کا باعث ہے تو کبھی کبھی یہ خدمات انتہائی تکلیف کا سبب بننے لگتی ہے اسی لئے ان خدمات کو باقاعدہ بنانے کے فوری اقدامات کئے جانے چاہئے کیونکہ اولا اور اوبر کی خدمات سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد میں گاڑی خریدنے سے زیادہ ٹیکسی کی خدمات کے حصول کے رجحان میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہاہے لیکن اس کے باوجود بھی اولا اور اوبر کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کیلئے سرکاری سطح پر کوئی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اولا اور اوبر کو حکومت کی جانب سے کھلی لوٹ کھسوٹ کی اجازت فراہم کی گئی ہے ا ور ان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اولا اور اوبر کی خدمات کیلئے فی کیلو میٹر کوئی کرایہ مختص نہ ہونے کے علاوہ مصروف ترین اوقات میں من مانی کرایہ کی وصولی کے سبب صورتحال انتہائی کربناک ہوجاتی ہے کیونکہ اولا اور اوبر کی خدمات سے استفادہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے شہریوں کی جانب سے اپنی گاڑیوں کو استعمال کرنے سے اجتناب کیا جا رہاہے لیکن بسا اوقات مصروف ترین اوقات کا بہانہ کرتے ہوئے اولا اور اوبر کی جانب سے کرایہ میں اچانک اضافہ کردیا جاتا ہے جس کے سبب مسافرین کو خفت و جھنجلاہٹ کا سامنا کرنا پڑ تا ہے کیونکہ کرایہ میں یکسانیت نہ ہونے کے باعث انہیں مجبوری میں دوگنا اور بعض وقت تین گنا زیادہ کرایہ اداکرتے ہوئے اپنی منزل مقصود تک سفر کرنا پڑرہا ہے۔اولا اور اوبر کے ڈرائیورس کا کہناہے کہ کرایہ کا تعین ان کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ کمپنی کی جانب سے کرایہ متعین کیا جاتا ہے اسی لئے وہ بھی کچھ کہنے سے قاصر ہیں ۔ ڈرائیورس کا کہناہے کہ مصروف ترین اور ٹریفک والے اوقات میں اچانک کرایہ میں اضافہ کیا جاتا ہے علاوہ ازیں شادیوں کے موسم میں شام کے اوقات میں کرایوں میں اضافہ کردیاجاتا ہے کیونکہ فوری طور پر کیاب خدمات دستیاب نہیں ہوتی اور کیاب کی خدمات کے حصول کیلئے کی جانے والی کوششوں کو دیکھتے ہوئے کمپنی اپنے طور پر مصروف ترین روٹس پر کرایہ میں اضافہ کردیتی ہے اور اس فیصلہ سے کئی مرتبہ خود ڈرائیورس واقف نہیں رہتے لیکن کیاب خدمات سے استفادہ کی کوشش کرنے والوں کو ان کی مسافت کی تخمینی لاگت سے واقف کروادیا جاتا ہے اسی لئے کمپنی سے بھی شکایت نہیں کی جاسکتی لیکن مسافرین کی سہولت کیلئے ان کمپنیوں کو اپنے کرایوں میں یکسانیت پیدا کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کرنے چاہئے اور حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خانگی کیاب خدمات کو باقاعدہ بنانے کیلئے ان کا اقل ترین اور فی کیلو میٹر کرایہ مقرر کرے تاکہ عوام کو اس بات کا علم رہے کہ ان کیاب کے ذریعہ سفر کرنے پر انہیں کتنی رقم ادا کرنی ہے اور یہ کمپنیاں کتنی رقم وصول کرنے کی مجاز ہیں۔ محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کے عہدیداروں کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں پالیسی کی تیاری کی صورت میں ہی محکمہ کی جانب سے کوئی اقدامات کئے جا سکتے ہیں اور ان کیاب خدمات کے لئے کرایوں کے تعین کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔